دہشتگردی کے قلع قمع کے لیے قومی اتحاد کی ضرورت (اداریہ)

پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے عفریت کا سامنا کر رہا ہے اور اس جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی بھی دے چکا ہے۔ حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد ایک بار پھر یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ ان حملوں کے پس پردہ بیرونی عناصر اور دشمن قوتیں سرگرم ہیں۔ پاکستان متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ بعض دہشتگرد کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کو بھی بھارتی پشت پناہی حاصل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن وسائل فراہم کرنے کا عزم خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کی مساوی ترقی ہی پاکستان کی حقیقی ترقی کی ضامن ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 2017-18ء میں دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم ساز کے تحت یہ دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ دشمن دہشتگردوں کو وسائل فراہم کر رہا ہے۔ جس کا مقابلہ قومی اتحاد سے کرنا ہو گا، انہوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور وہاں موجود دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو اس حوالے سے بار بار آگاہ کیا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اب تک 90ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت اور پسماندگی کے باعث اس صوبے کو دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ وسائل درکار ہیں۔ 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں نے بلوچستان کے مالی حصے میں اضافے کے لیے بھرپور تعاون کیا۔ جبکہ پنجاب اب تک 150 ارب روپے بلوچستان کو منتقل کر چکا ہے۔ بلوچستان میں 27ہزار زرعی ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کیے جا رہے، جس پر 75 ارب روپے لاگت آئے گی، جن میں سے 50 ارب روپے وفاق فراہم کر رہا ہے۔ بلوچستان کے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور وظائف کی تقسیم میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں 10 فیصد اضافی کوٹہ دیا جا رہا ہے، جبکہ صوبے میں 9دانش سکول قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ غریب اور یتیم کو معیاری اور مفت تعلیم فراہم کی جا سکے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان نے عسکری اور سفارتی میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھے اور چاروں صوبوں کی یکساں ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر دہشتگردی میں بیرونی سرپرستی یا مداخلت کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کریں، عالمی برادری کو اعتماد میں لیں اور سفارتی ذرائع سے اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اجاگر کریں، ساتھ ہی ملک کے اندر سکیورٍٹی انٹیلی جنس تعاون اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ دہشتگرد عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ بے شک بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے اور جغرافیائی اہمیت’ معدنی دولت’ ساحلی پٹی اور علاقائی روابط میں اس کا مرکزی کردار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اسی تناظر میں دوٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ سکیورٹی فورسز عوامی حمایت سے بلوچستان میں امن کا قیام یقینی بنائیں گی اور فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ دہشتگردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے، اس لیے اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ’ شفاف اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف کو حقائق اور شواہد کے ساتھ عالمی فورمز پر پیش کرے جبکہ عالمی برادری بھی ہر قسم کی دہشت گردی اور اس کی ممکنہ سرپرستی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنائے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں