وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دہشت گردی’ علیحدگی پسندگی کو پورے خطے کیلئے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر صورت کی مذمت کرتا ہے دنیا سیاسی مفادات کیلئے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والے ممالک کے جھوٹے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتی’ بلوچستان وخیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں گھنائونے جرائم کے ذمہ داروں اور ان کے سہولت کاروں کو جواب دہ ہونا ہو گا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے جامع مکالمے کی ضرورت ہے، پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے معمول کے تعلقات کا خواہاں ہے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں پاکستانی موقف دنیا بھر کو بتا دیا، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن ترقی اور خوشحالی کیلئے ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ کوشش جاری رکھیں گے پاکستان شدید بارشوں’ گلوبل وارمنگ کلائوڈ برسٹ اور تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے کسی بھی ملک کیلئے خود مختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہم تمام بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کا احترام کرتے ہیں، معاہدوں کے مطابق پانی تک بلارکاوٹ رسائی ایس سی او کے مقاصد کو مزید مستحکم کرے گی پاکستان اقوام متحدہ کے منظورکردہ 2ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے پاکستان نے صرف اپنے لئے بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے قربانی دی وزیراعظم نے افغانستان کو برادر ہمسایہ ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستحکم افغانستان نہ صرف ہمارے بلکہ پورے کے مفاد میں ہے ہم افغان قیادت کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ اچھے ہمسائے اور معاشی شراکت دار کے طور پر افغانستان کو ساتھ لیکر چل سکیں امید ہے کہ یہ تعاون اور سہ فریقی ملاقاتیں مستقبل میں مثبت نتائج دیں گی وزیراعظم نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان کی متاثرکن معاشی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا معاشی تبدیلی کا منصوبہ تین ستونوں پر مبنی ہے’ تجارت’ انفراسٹرکچر’ زراعت’ آئی ٹی اور معدنی وسائل میں نئی سرمایہ کاری معاشی تبدیلی کا پہلا ستون تحقیق اور جدت طرازی کی حوصلہ افزائی معاشی تبدیلی کا دوسرا ستون جبکہ جامع ٹیکس اصلاحات کے ذریعے محصولات میں اضافہ معاشی تبدیلی کا تیسرا ستون ہے وزیراعظم نے ایس سی او کے چارٹرڈ کے ساتھ غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ شنگھائی اسپرٹ کی اعلیٰ اقدار کو برقرار رکھنے کیلئے عہد کرتے ہیں چاہے اس سفر میں چاہے جتنی بھی مشکلیں اور رکاوٹیں آئیں! شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کا جرأت مندانہ خطاب اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان خطے کو پرامن بنانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا وزیراعظم نے اجلاس میں تنظیم کے ممبر ممالک کے سربراہوں کی موجودگی میں دنیا کو بتایا کہ پاکستان دہشت گرد’ علیحدگی پسندی کو پورے خطے کیلئے سنگین خطرہ قرار دیتا ہے اور دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر صورت کی مذمت کرتا ہے انہوں نے واضح کیا کہ دنیا سیاسی مفادات کیلئے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والے ممالک کے جھوٹے بیانیئے کو تسلیم نہیں کرتی” پاکستان کو ایک طویل عرصہ سے دہشت گردانہ حملوں کا سامنا ہے بلوچستان وخیبرپختونخواہ میں دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جس کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں ایس سی او تنظیم کے ممالک کو دہشت گردی کے واقعات کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے ممالک کو کٹہرے میں لانا چاہیے خطے کے امن کیلئے سب کو مل کر جل کر کوشش کرنا ہوں گی۔




