ریلوے روڈ صفدرآباد میں تجاوزات کی بھرمار،پیدل چلنا دشوار

صفدرآباد(نامہ نگار)ریلوے روڈ صفدرآباد مکمل طور پرتجاوزات قائم کرنے والوں کے نرغے میں آگئی۔جگہ جگہ تجاوزات قائم کوئی پوچھ گچھ نہیں ،شہریوں کی من مرضیاں کھلے عام جاری،قانون نام کی کوئی شے نظر نہیںآتی ،صفدرآباد بنانا اسٹیٹ بن کر رہ گیا ۔سرکاری کاموں میں غفلت کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے شہریوں کی نمائندہ ڈیلی بزنس رپورٹ سے بات چیت۔ریلوے روڈ پر تجاوزات قائم کرنے والے چھا گئے حکومتی رٹ ناکام ہو گئی۔شہری کہتے ہیں کیا حکومتی مشینری کے سامنے ساٹھ ہزار کی آبادی کا شہر بھاری پڑ گیا ،کہاں گئے پنجاب حکومت کے ادارے جنہوں نے شہر کو تجاوزات سے پاک کرنا تھا ۔ایک شہری نے بتایا کہ صفدرآباد کو تجاوزات سے پاک کرنا تو دور کی بات سوچنا بھی وقت ضائع کرنے کے مترادف ہو گا۔ریلوے روڈ پر دکانداروں سمیت ریڑھی بان،رکشے والے اور جگہ جگہ موٹر سائیکل کھڑی کرنا ایک فیشن بن گیا ہے جسے روکنا نا ممکن ہو چکا ،شہری پہلے بھی شکایات کر چکے کہ شہر کو اگر تجاوزات سے پاک کرنا ہے تو ہمت اور جرت سے کام کرنا ہو گا۔ کیونکہ ہر بندے کی کوئی نہ کوئی اپروچ ضرور ہے،کوئی ایم این کا بندہ ہو گا اور کوئی ایم پی اے کا ،کسی کی میونسپل کمیٹی کے افسران تک رسائی ہو گی اور کسی کی اداروں کے اہل کاروں سے واقف کار نکلے گا ۔اس لئے یہ کام ایک دودن تک نہیں اس پر ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے ،سوچا جائے تو قانون کے سامنے کون کھڑا ہو سکتا ہے ؟مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب میل ملاپ کا نتیجہ ہو سکتا ہے ،میڈیا کا کام تو نشان دہی کرنا ہوتا ہے وہ نمائندگان کر رہے ہیں آگے والا کام تو اداروں کا ہے جو بھاری تنخواہیں لے کر بھی خاموش ہیں ۔جب کسی اعلیٰ حکام کا دورہ ہوتا ہے تو وقت سے پہلے سب کچھ سیدھا کر لیا جاتا ہے اور وزٹ کرنے والا افسر شاباش دے کر چلا جاتا ہے حالانکہ یہ سب دو نمبری والا معاملہ ہوتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں