منڈی صادق گنج (نامہ نگار) حکومت پنجاب کی جانب سے گندم کا ریٹ 3500فی من کا ریٹ مقرر کرتے ہوئے پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے گندم خریداری کا فیصلہ کیا تھا جس میں طے ہوا تھا پرائیویٹ سیکٹر حکومت کے مقرر کردہ سینٹرز سے ہی گندم کسانوں سے خریدے گا گزشتہ روز پنجاب کے مختلف اضلاع میں گندم خریداری کے لئے بنائے گئے مراکز کی فہرست سامنے آئی فو انتہائی حیرت کی بات تھی کہ پنجاب بھر میں سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والی تحصیل منچن آباد میں گندم کی خریداری کے لئے ایک بھی مرکز نہیں قائم کیا گیا اس سے قبل تحصیل منچن آباد میں منڈی صادق گنج میکلوڈ گنج من ن اباد اور گردونواح میں ہر سال محکمہ فوڈ اور پاسکو کی جانب سے 9سے 10گندم خریدا ر ی مراکز قائم کئے جاتے تھے ان مراکز پر ابھی بھی کئی لاکھ بوری گندم کا سٹاک موجود ہے دوسری جانب اس صورت حال پر عام کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جس طرح گندم خریداری مراکز پر مڈل مینوں اور مافیا نے جس طرح کسانوں کا حق مارا اس سے بہتر ہے کہ گندم خریداری مراکز نہ ہی ہوں اگر بنائے بھی جاتے تو وہاں پر مڈل مینوں اور مافیا کا ہی داج ہونا تھا کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کو تو گزشتہ سال کی طرح باردانہ ہی نہیں ملنا تھا ہم تو پہلے بھی کم ریٹ پر گندم آڑھتی کو فروخت کرتے ہیں اب بھی ویسا ہی ہو گا گزشتہ سال گندم خریداری میں عام کسانوں کی حق تلفی کر کے لاکھوں کروڑوں روپے کمانے والا مافیا اس سال بھی منتظر تھا تاہم تحصیل بھر میں مرکز خریداری گندم نہ بنائے جانے سے یہ مافیا شدید اضطراب کا شکار ہے ۔




