ساہیوال میں دودھ دہی کی سرکاری قیمت پر عمل نہ ہوسکا

ساہیوال ( بیورو چیف) دودھ اور دہی کی سرکاری قیمت صرف کاغذوں تک محدود، من مانے نرخ وصول کرنے کا سلسلہ بدستور جاری انتظامیہ بالکل خاموش شہری آج بھی 170 کے بجائے 250 روپے فی لٹر دودھ خریدنے پر مجبور شہر میں دودھ کی سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں وصول کیے جانے والے نرخوں کے درمیان نمایاں فرق شہریوں کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں کے مقابلے میں متعدد علاقوں میں دودھ زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں، جس سے عام شہری بالخصوص متوسط اور کم آمدن والے طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ دودھ فروش تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے ہم کسی نہیں مانتے ہمارے اخراجات بہت زیادہ ہیں ہم اس سے کم دودھ فروخت نہیں کر سکتے لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمتوں پر ہی عملدرآمد ہونا چاہیے۔ ان کا موقف ہے کہ اگر ہونا مارکیٹ میں سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے تو متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ کی قیمتوں کے معاملے پر واضح پالیسی اور مؤثر نگرانی کا نظام متعارف کروایا جائے تا کہ ایک طرف صارفین کو ریلیف مل سکے اور جائے تا دوسری جانب دودھ فروشوں کے جائز تحفظات کا بھی حل نکالا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں