لاہور(بیورو چیف) سبزیوں، پھلوں، برائلر گوشت اور انڈوں کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہونے لگیں، دکاندار سرکاری نرخ نامے نظر انداز کرتے ہوئے اشیائے خورونوش من مانے داموں فروخت کرنے میں مصروف ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔سبزیوں میں میتھی 100 روپے کے بجائے 130 روپے فی کلو، گھیا توری 120 کے بجائے 150 روپے اور ٹماٹر 130 کے بجائے 140 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ دیسی لہسن کی قیمت 230 روپے مقرر ہونے کے باوجود 400 روپے فی کلو وصول کی جا رہی ہے، جبکہ ادرک 375 کے بجائے 400 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔اسی طرح شوگر فری آلو 45 روپے کے بجائے 80 روپے، شملہ مرچ 160 کے بجائے 200 روپے، مٹر 330 کے بجائے 440 روپے اور بھنڈی 150 کے بجائے 240 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ بینگن 80 کے بجائے 120 روپے اور دیسی ٹینڈے 160 کے بجائے 210 روپے فی کلو میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔پھلوں کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ ناریل 485روپے کے بجائے 650 روپے، پپیتا 280 کے بجائے 350 روپے اور درجہ اول کیلا 160 کے بجائے 180 روپے فی درجن فروخت ہو رہا ہے۔ شکر قندی 90 کے بجائے 110 روپے فی کلو جبکہ مسمی 165 روپے کے مقررہ نرخ کے بجائے 200 روپے فی درجن میں فروخت کی جا رہی ہے۔امرود 240 روپے کے بجائے 300 روپے، قندھاری انار 570 کے بجائے 700 روپے اور انگور 660 کے بجائے 900 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہے ہیں۔دوسری جانب برائلر گوشت اور انڈوں کی قیمتیں بھی سرکاری نرخوں سے تجاوز کر گئی ہیں۔ برائلر کی سرکاری قیمت 563 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ صافی برائلر گوشت 660 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح انڈوں کی سرکاری قیمت 239 روپے فی درجن ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 248 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔سرکاری نرخ نامے اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی قیمتوں کے فرق نے شہریوں کے لیے روزمرہ خریداری مزید مشکل بنا دی ہے، جبکہ قیمتوں پر مثر عمل درآمد اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔




