فیصل آباد (وقائع نگار خصوصی) پاکستان کے دوسرے بڑے صنعتی شہر یعنی مانچسٹر آف پاکستان فیصل آباد میں چند ماہ کی تعیناتی کے دوران گڈگورننس کا مظاہرہ نہ کرنے پر محترمہ مسرت جبیں نے اپنی کرسی کے مستقبل کو دائو پر لگا دیا، تقریباً 98 دن تک فیصل آباد میں ڈویژنل کمشنر /ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد تعینات رہنے کے باوجود محترمہ مسرت جبیں کوئی قابل عمل اور تاریخ ساز منصوبہ متعارف نہ کروا سکیں جبکہ محترمہ نے سابق کمشنر راجہ جہانگیر انور کے تاریخی اقدامات اور منصوبوں پر بھی پانی پھیر دیا۔ بہاولپور میں ڈویژنل کمشنر کے فرائض سرانجام دینے والی محترمہ مسرت جبیں نے 8 اپریل 2026ء کو فیصل آباد میں ڈویژنل کمشنر کا چارج سنبھالا مگر ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بہاولپور کو چھوڑ کر فیصل آباد نہیں آنا چاہ رہی تھی تاہم انہیں مجبوراً یہ منصب سنبھالنا پڑا اور انہوں نے مجبوری کے عالم میں ہی اپنی تعیناتی کے 98دن گزارے۔ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر تک ہی مسافت طے کرنے یا اکا دُکا منصوبوں کا وزٹ کرنے میں ہی ان کا زیادہ تر وقت گزرا، اپنی تعیناتی کے فوری بعد محترمہ مسرت جبیں نے اپنے آبائی گائوں کے رہائشی 17 ویں گریڈ کے آفیسر عثمان غنی کا تبادلہ چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کروا دیا۔ سی ای او MCF کی یہ سیٹ 19 ویں گریڈ کے آفیسر کی ہے لیکن محترمہ کی منت سماجت کے باعث یہ سیٹ 17ویں گریڈ کے آفیسر کو سونپ دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ سی ای او میونسپل کارپوریشن عثمان غنی ”اپنی باس” کی طرح خاموش ہو کر کرسی پر براجمان ہیں اور ان کی کارکردگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ لگتا ہے کہ اب عثمان غنی کو بھی ”اپنی باس” کے پیچھے لاہور ہی جانا پڑے گا۔ محترمہ مسرت جبیں نے بطور ڈویژنل کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن سرکاری فرائض کی سرانجام دہی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ اسی بناء پر انہیں صرف تین ماہ 8 دن کے بعد تبدیل کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں محترمہ مسرت جبیں کے لیے فیلڈ پوسٹنگ حاصل کرنا تقریباً تقریباً ناممکن ہو چکا ہے وہ آج 16جولائی 2026ء کو اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دینگی اور عمران حامد شیخ ڈویژنل کمشنر فیصل آباد /ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن کا چارج سنبھالینگے۔ عمران حامد شیخ کچھ عرصہ کے لیے فیصل آباد میں بطور ڈپٹی کمشنر فرائض سرانجام دے چکے ہیں، وہ فیصل آباد کے رہائشی ہونے کے ناطے اس شہر اور گردونواح کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں، اُمید ہے کہ وہ سابق کمشنر راجہ جہانگیر انور کی طرح اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر منفرد کام کرینگے۔ اپنی عزیزداری’ تعلق داری’ دوستی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیصل آباد کی تعمیر وترقی میں اپنا مثالی کردار ادا کرینگے۔ عمران حامد شیخ ایک ہنس مُکھ انسان ہیں، ان دنوں وہ DG انوائرمنٹ پنجاب کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ جہاں پر انہیں ان کی خدمات کے باعث تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ اس بات کا فیصلہ عمران حامد شیخ خود کرینگے کہ وہ کام کر کے راجہ جہانگیر کی مثال بننا چاہیں گے یا فارغ بیٹھ کر محترمہ مسرت جبیں کی طرح ناکام آفیسر بنیں گے۔




