سفارتکاری کے ذریعے معاملات بہتر ہو سکتے ہیں

لاہور(بیورو چیف)سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ بھارت کو تنہا کرنا پاکستان کا مقصد نہیں، ہمیں اپنے ہمسایوں کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا، ہم ہمیشہ بھارت کے اکسانے کے باوجود مسائل کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، پاکستان نے امریکہ ایران ثالثی کرکے ثابت کیا ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے معاملات بہتر ہو سکتے ہیں، موجودہ حکومت نے ایران امریکہ جنگ میں بہترین کردار ادا کیا اسی لیے اس وقت پاکستان کی دنیا بھر میں تعریفیں ہو رہی ہیں، امریکہ ایران جنگ سے ایران اور پاکستان بہترین دوست بن کر سامنے آئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ”امریکہ ایران جنگ اور جنوبی ایشیا ء کا مستقبل” کے موضوع رپ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ کے اثرات ہمارے ہمسائے ملک بھارت پر بھی ہوئے ہیں، بھارت کو تنہا کرنا پاکستان کا مقصد نہیں،ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کا احترام کریں، پاکستان کا کبھی یہ نظریہ نہیں رہا کہ اس نے بھارت کو دنیا میں تنہا کرنا ہے۔ اگر کسی نے یہ سوچا بھی ہے تو میں کسی بھی جگہ اس سوچ کی حمایت نہیں کروں گی کہ بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے، اب ہمیں اپنے ہمسایوں کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا۔ کسی بھی ہمسائے ملک کا وجود اب ٹھکرایا نہیں جا سکتا،ہم نے کبھی بھارت بننے کی کوشش نہیں کی،ہم ہمیشہ بھارت کے اکسانے کے باوجود مسائل کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دس سے پندرہ برسوں میں ہم نے اپنی سفارتکاری کو بہت مضبوط کیا ہے، پاکستان اس خطے میں بہت اہم کردار کر رہا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان ماضی میں معلومات کی شیئر میں اعتماد کا فقدان رہا ہے، ہمارے جی سی سی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات اچھے ہیں اور اب ایران کے ساتھ بھی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، موجودہ حکومت نے ایران امریکہ جنگ میں بہترین کردار ادا کیا۔ کرائسس ڈپلومیسی میں فیصلے لکھ پڑھ کر نہیں ہو سکتے بلکہ فوری کرنا پڑتے ہیں، اس وقت پاکستان کے دفتر خارجہ کی دنیا بھر میں تعریفیں ہو رہی ہیں، پاکستان کی سفارتی کامیابی کو مزید جوش کے ساتھ منانا چا ہیے۔ مجھے اپنے ملک پر فخر ہے،میں بے حد خوش ہوں کہ ہمارے ملک نے اس ساری صورتحال میں بہت اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے،پاکستان نے ایران امریکہ تنازعہ کی ثالثی کی تو دنیا آج ہم سے پوچھ رہی ہے کہ پاکستان نے یہ سب کچھ کیسے کر لیا؟ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ تم سوئے ہوئے تھے؟ پاکستان نے سفارتکاری کو فروغ دینے میں دہائیاں لگائی ہیں،ہماری سفارتکاری دہائیوں سے چل رہی ہے۔ پاکستان نے خلیجی ممالک کی طرح ایران کے ساتھ بھی تعلقات کو درست کیا ہے، کسی جادو سے پاکستان کو سفارتکاری کا موقع نہیں ملا اس کے پیچھے سالوں کی محنت ہے۔ ہماری وزارت خارجہ بہترین ادارہ ہے البتہ اسے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ آج دنیا میں سفارتکاری بالکل بے معنی ہو چکی ہے لیکن پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے معاملات بہتر ہو سکتے ہیں، دنیا اب مختلف گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے اور نیا ورلڈ آرڈر اور اس کی ابتدائی شکل نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ چین کا ایران امریکہ جنگ میں بہت اہم کردار ہے لیکن وہ کھل کر سامنے نہیں آیا، دنیا میں اب گریٹ پاور کا مقابلہ شروع ہو چکا ہے، دنیا کا نیا ورلڈ آرڈر بنانے والے اب وہ نہیں ہوں گے جنہوں نے پہلے یہ بنایا تھا، ایران امریکہ تنازعہ کے اثرات پورے جنوبی ایشیا ء پر ہوں گے، جنوبی ایشیاء کا اگلے دس برسوں میں مستقبل کیا ہوگا وہ کسی کو ابھی نہیں پتا،ہم کسی بیرونی طاقت پر انحصار نہیں کر سکتے کہ وہ آئے اور ہمارے اندرونی مسائل کو حل کرے، امریکہ ایران جنگ سے ایران اور پاکستان بہترین دوست بن کر سامنے آئے ہیں۔ امریکہ نے یہ سوچ کر ایران پر حملہ کیا کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں وہاں سے نکل آئے گا لیکن اب اس کا نکلنا مشکل ہو گیا ہے، بڑی طاقت نے چھوٹی طاقت پر حملہ کیا مگر پھنس گیا۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ ثالثی کے لیے غیر جانبدار ملک کو ہی چنا جاتا ہے اسی لیے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کو ثالث چنا گیا، آبنائے ہرمز تنازعہ کا حصہ نہیں تھا مگر ایران نے دنیا کے لئے پیدا کر دیا۔ افغانستان پر حملے کے لئے سکیورٹی کونسل کی اجازت لی گئی،عراق پر حملے کے لیے بھی بہانہ بنایا گیا مگر کچھ ثابت نہ ہوا،گویا ثابت ہو گیا کہ کسی ملک پر حملے کے لئے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ امریکہ ایران تنازعہ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا وزیر سے پوچھا جائے، میں نے لیوی بڑھانے پر خود اعتراض کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے خطے میں عدم استحکام پیدا کردیا ہے۔ پاکستان کسی ملک کا نہیں صرف اپنا ساتھ دے گا۔ پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اعتماد کی فضا ء موجود ہے۔ پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں کسی کا دبا ئوکبھی قبول نہیں کیا۔ گزشتہ دس سے پندرہ سالوں میں چین کی پیداواری صلاحیت امریکہ کے مقابلے میں بڑھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں