واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دو ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، سرمایہ کاروں نے تکنیکی خریداری کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لیا، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس سے شرح سود کے حوالے سے اشاروں کے منتظر رہے۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,129.43 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو 7 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے، امریکی گولڈ فیوچر (اگست ڈیلیوری)بھی 1.4 فیصد اضافے کے بعد 4,134.50 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں قیمتوں میں کمی کے بعد خریدار دوبارہ مارکیٹ میں داخل ہوئے ہیں، کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ سرمایہ کار کم قیمتوں کو خریداری کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امید بھی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔ مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مہنگائی کے خدشات بڑھے ہیں، اسی صورتحال نے شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بھی تقویت دی ہے، جس کے باعث گزشتہ ہفتے سونے کو جون کے آغاز کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن ایران بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر اب بھی تیار ہے، تاہم تہران مذاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہا۔ دوسری جانب یمن کے ایران نواز حوثیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی عرب سے ایشیا جانے والے تین آئل ٹینکرز نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا، جس سے توانائی کی سپلائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو 2026 کے اختتام تک شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے، تاہم رواں سال شرح سود میں اضافے کے امکان کو کئی ماہرین نے اب زیادہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثے رکھنے کی لاگت بڑھاتی ہے، جس سے عام طور پر سونے کی طلب متاثر ہوتی ہے۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ 59.71 ڈالر فی اونس ہو گئی، جبکہ پلاٹینم 1.9 فیصد بڑھ کر 1,659.97 ڈالر اور پیلیڈیم 2.2 فیصد اضافے کے بعد 1,310.50 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔




