لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) سپین اور برطانوی زیرِ انتظام جبرالٹر کے درمیان سرحد ی بارڑ کو ختم کر دیا گیا ہے۔ نئے معاہدے کے بعد دونوں کے درمیان سرحدی آمدورفت کوآسان بنادیا گیا ہے، اس اقدام کے تحت پرانی سرحدی رکاوٹوں اورچیکنگ کے نظام میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے جس سے روزانہ سپین سے جبرالٹرکام کے لیے جانے والے ہزاروں افراد اورسیاحوں کو سہولت حاصل ہو گی۔ جبرالٹرکو یورپی شینجن نظام کیساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، تاہم اس کی برطانوی خود مختاری برقرار رہے گی۔ حکام کیمطابق یہ معاہدہ برطانیہ، یورپی یونین اوراسپین کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد طے پایا۔ جبرالٹر اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یورپ اور بحیرہ روم کے خطے میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچیز نے جبرالٹرکی سرحدی باڑ ختم ہونے کو ایک تاریخی پیشرفت قراردیا اورکہا کہ یہ یورپ کی آخری دیوار کے خاتمے کے مترادف ہے۔ یہ اقدام یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان نئے معاہدے کے نفاذ کے بعد ممکن ہوا، جس سے بریگزٹ کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کم ہوں گے۔




