فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)معمار ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو(اے آر آئی)کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار بعنوان” پاکستان سے سگریٹ نوشی کا خاتمہ ممکن ہے” منعقد ہوا جس میںڈاکٹر جعفر حسن مبارک ،فاروق ایوب چیئرمین معمار ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن،ڈاکٹر عروج زہرہ رضوی،سید عارف حسین بخاری،طیب رفیق،طارق محمود مرزا،میاں ندیم احمد،فائق صابر،شہریار وٹو ،یوسف عدنان ،پرسیکلا رمضان، سلیم مسیح ،میڈم فوزیہ ،ڈاکٹر مظہر شاہ و دیگر شریک ہیں۔ڈاکٹر جعفر حسن مبارک ،فاروق ایوب چیئرمین معمار ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن،ڈاکٹر عروج زہرہ رضوی،سید عارف حسین بخاری،طیب رفیق،طارق محمود مرزا،میاں ندیم احمد،فیصلہ کن اقدامات ناگزیرپاکستان میں2024 میں تقریبا 94 ارب 32 کروڑ 80 لاکھ سگریٹ تیار کیے گئے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سگریٹ نوش کے لیے سالانہ اوسطا 6738 سگریٹ آتے ہیں۔ یہ تقریبا337 پیکٹ بنتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک تشویش ناک صورتِ حال ہے، جہاں تمباکونوشوں کی تعداد 2 کروڑ20 لاکھ سے زیادہ ہے جن میں تقریبا 1 کروڑ 40 لاکھ سگریٹ نوش ہیں۔اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انسداد تمباکونوشی کے سلسلے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے باوجود، یہ پاکستان میں صحتِ عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان نے 1997 میں تمباکو اور سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی عائد کی جو اس سمت میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس وقت لاہور ہائی کورٹ نے الیکٹرانک میڈیا اور ٹیلی ویژن پر سگریٹ اور تمباکو کے اشتہارات کو آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت شہریوں کے بنیادی حقِ زندگی کے خلاف یا اس سے متصادم قرار دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس فیصلے نے انسداد تمباکونوشی کے اقدامات میں پیش رفت کی راہ ہموار کی۔




