ملک اس وقت شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہے خیبرپختونخوا’ پنجاب’ بلوچستان’ سندھ’ آزاد کشمیر میں آنے والی قدرتی آفات سے ہونے والے جانی ومالی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے خیبرپختونخوا میں تباہی مچانے کے بعد سیلاب نے پنجاب کا رخ کر لیا ہے دریائوں میں پانی کا بہائو اس قدر تیز ہے کہ کوئی چیز اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتی شہروں میں بھی سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے کئی مقامات پر آبادیوں میں قدرتی آفت نے اتنی تباہی مچائی کہ ماضی میں اس کی نظر نہیں ملتی ہمارا ازلی دشمن بھارت اپنے ملک میں بپھرے ہوئے دریائوں کا پانی ہمارے دریائوں کی طرف چھوڑ رہا ہے دریائے راوی’ دریائے ستلج’ دریائے چناب ودیگر دریائوں میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے وفاقی وصوبائی حکومتیں اس قدرتی آفت اور مون سون کی بارشوں سے متاثرہ افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں فلڈ ریلیف کیمپوں میں متاثرین کو کھانا پانی اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ مویشیوں کو چارہ اور حفاظتی ٹیکہ جات لگانے کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے متاثرین کی امداد کیلئے حکومت کے علاوہ فلاحی تنظیمیں بھی سرگرم ہیں سیلاب سے سڑکوں پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے زمینی راستوں کی بندش کے باعث تجارتی مال لانے لیجانے والی ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی اس صورتحال میں سڑکوں پر آنے سے گریز کر رہی ہیں اشیائے خوردونوش کی نقل وحمل کرنے سے غذائی قلت سر اٹھانے لگی ہیں جبکہ اشیاء کی عدم دستیابی کے مہنگائی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے سیلاب فصلوں’ سبزیوں کو بھی ساتھ بہا کر لے گیا ہے لہٰذا سبزیاں اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ غریب آدمی یہ بھی نہیں خرید سکتا دالیں جو سستی شے سمجھی جاتی ہیں ان کے نرخ بھی بڑھ رہے ہیں سیلاب کی تباہ کاریاں تو ابھی جاری ہیں لیکن سیلابی صورتحال کے خاتمہ کے بعد عوام کو جن گھمبیر مسائل کا سامنا ہو گا ان میں بے انتہا مہنگائی’ غربت مختلف جسمانی عوارض’ غذائی اجناس کی قلت شامل ہے جس کا خدشہ اقوام متحدہ نے بھی کیا ہے جبکہ ان تمام عوامل کے آثار ابھی سے نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں ایسے موقع سے فائدہ اٹھا کر ذخیرہ اندوز اور منافع خور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے’ جنہیں روکنے کا ملک بھر میں کوئی موثر میکنزم موجود نہیں موجودہ سیلاب کی تباہ کاریاں اتنی زیادہ ہیں کہ ان سے نمٹنا اقوام عالم کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے تاکہ ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہونے والے متاثرین کی بحالی انکو غذائی قلت’ غربت’ مہنگائی سے بچایا جا سکے گزشتہ برس بھی سیلاب کے باعث پاکستان میں بہت جانی ومالی نقصان ہوا تھا مختلف عالمی ممالک نے موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے پاکستان کی امداد کیلئے بھاری امداد کا اعلان کیا تھا مگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی دنیا کی طرف سے مالی امداد کے اعلانات صرف اعلانات ہی رہے چند ممالک نے امداد دی مگر وہ بھی ناکافی! ایک بار پھر پاکستان قدرتی آفات سے نبردآزما ہے اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کے ممبران سے پاکستان میں ہونے والے نقصانات کے ازالہ کیلئے بارشوں اور سیلاب سے متاثرین کی بحالی کیلئے مدد کی اپیل کی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قوتیں آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان کی بھرپور مدد کریں تاکہ متاثرین کو درپیش مسائل اور مشکلات سے نکالنے میں مدد مل سکے۔




