فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی یہ حالت ہے کہ تیز بارشوں کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی اس کے ذمہ دار سابقہ اور موجودہ سیاستدان اور متعلقہ ادارے ہیں کہ جنہوں نے بیکار منصوبوں کے لئے تو اربوں روپے مختص کئے مگر نکاسی آب کے نظام کی بہتری کیلئے ڈرینر اور ذخائر نہیں بنائے انہوں نے کہا کہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ خیبر پختونخواہ میں بدترین سیلاب کے باعث سینکڑوں قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان ہوا لوگ حکومتوں کی ناقص کارکردگی دیکھ چکے ہیں مگر کھیل اب ختم ہو نا چاہئے اور ملک کی بنیاد ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے سب سے پہلے ملک میں سیلابی پانی سٹور کرنے کیلئے ڈیمز تعمیرر ہونے چاہئیں ہم پانی کو ذخیرہ کر کے قابل کاشت بھی بنا سکتے ہیں وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کی اولین ترجیح ذخائر اور ڈیمز کی تعمیر ہونی چاہئے رانا زاہد توصیف نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے بڑھتے مسائل ، تکالیف اور پریشانیوں کے بعد واضح ہو چکا ہے کہ حکومتیںاپنی کارکردگی کے حوالہ سے مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں لہٰذا اب وقت کا تقاضا ہے کہ فیلڈ مارشل از خود ذاتی دل چسپی لیتے ہوئے ملک کی بنیاد ٹھیک کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ ایک عام آدمی بھی آئندہ وقت کیلئے سیلاب کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے لئے اس کا موثر حل چاہتا ہے سیاستدانوں کو اس کی پرواہ کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے پاکستان کو بیرون ملک سے جو 2ارب ڈالرز امداد ملی وہ رقم کہاں چلی گئی اس کی بھی تحقیقات کی جائیں ملک کے سنگین حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ خدارا سیاستدان کفایت شعاری کی پالیسی بنائیں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بند کر کے ملک کے اہم قومی منصوبوں کی تکمیل کی جائے کیونکہ عوام بہت کرب میں ہیں۔




