پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کا سب سے اہم منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جسے دونوں ممالک کی شراکت داری میں ایک نئے باب کی حیثیت حاصل ہے۔ اس مرحلے میں صنعتی ترقی’ زرعی جدید کاری’ انفارمیشن ٹیکنالوجی’ قابل تجدید توانائی اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اگر ان منصوبوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو سی پیک کا دوسرا مرحلہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کو نئی رفتار دے گا بلکہ روزگار’ سرمایہ کاری اور درآمدات میں اضافے کے ذریعے پاک چین تعاون میں حقیقی معنوں میں گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ چین کے قونصل جنرل سن یان نے کہا ہے کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاک چین اقتصادی تعاون میں گیم چینجر ہو گا۔ 25.9 ارب ڈالر سرمایہ کاری’ اڑھائی لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ پاکستان’ چین اور بھارت کے درمیان امن ایشیاء کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ پاک چین تعلقات جامع شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد’ اسٹریٹجک تعاون اور ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی غیر متزلزل حمایت پر استوار ہیں اور یہی خصوصیات اس شراکت داری کو دنیا کے مضبوط ترین دوطرفہ تعلقات میں ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا، جبکہ 1971ء میں اقوام متحدہ میں چین کی قانونی نشست کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی حمایت دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوئی۔ اسی طرح تائیوان، سنکیانگ اور زیرانگ کے معاملات پر پاکستان کی مستقل حمایت اور دوسری جانب پاکستان کی خودمختاری’ سلامتی اور ترقیاتی مفادات پر چین کا دوٹوک مؤقف دونوں ممالک کے ”آہنی بھائی چارے” کا عملی اظہار ہے۔ سن یان نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے 2015ء کے تاریخی دورۂ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی سطح پر ترقی دی گئی’ جس کے نتیجے میں سی پیک پر عملدرآمد میں غیر معمولی تیزی آئی۔ اب تک پاکستان میں 25 ارب 90کروڑ ڈالر سے زائد کی براہ راست سرمایہ کاری کی چکی ہے۔ بجلی کی قومی پیداواری صلاحیت میں 8 ہزار میگاواٹ سے زیادہ اضافہ ہوا، 510 کلومیٹر شاہراہیں اور 886 کلومیٹر بجلی کی ترسیلی لائنیں تعمیر کی گئیں جبکہ 2 لاکھ 60ہزار سے زائد مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ سی پیک اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ جہاں تعاون کا دائرہ انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر زراعت’ مینوفیکچرنگ’ خصوصی اقتصادی زونز’ سائنس’ ٹیکنالوجی’ مصنوعی ذہانت’ صنعتی اختراع اور انسانی وسائل کی ترقی تک وسیع ہو رہا ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی’ ڈرون فارمنگ’ سمارٹ ایگریکلچر’ کینولا’ چاول’ مرچ اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت بھی جاری ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع ہوا ہے، جس کی جھلک متعدد اہم پیش رفت میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان کا ورلڈ اے آئی کو آپریشن آرگنائزیشن کا بانی رکن بننا’ پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی سلامتی اور خطے کی صورتحال پر قریبی اسٹریٹجک رابطہ’ امریکہ اور ایران کے درمیان مشترکہ حمایت اور پاکستان’ چین فارما سیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس میں 85کروڑ ڈالر مالیت کے سرمایہ کاری معاہدوں کا طے پانا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر معیشت’ ٹیکنالوجی اور صنعتی شراکت داری کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں’ متعلقہ ادارے اور نجی شعبہ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے سے بھرپور استفادہ کریں، شفافیت’ بروقت تکمیل بہتر پالیسی سازی اور سرمایہ کار دوست ماحول ہی اس منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اگر قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے تمام منصوبے مقررہ اہداف کے مطابق مکمل کئے گئے تو سی پیک کا دوسرا مرحلہ نہ صرف پاکستان کی معاشی خودمختاری کو مضبوط کرے گا بلکہ چین دوستی کو مزید مستحکم کرتے ہوئے خطے میں ترقی استحکام اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کرے گا۔




