شبنم نے30برس تک فلموں میں ہیروئن کا کردار ادا کیا

لاہور (شوبز نیوز) ایک لڑکی، جسے اردو بولنی ہی نہیں آتی تھی، جس کا لہجہ اور چہرہ ایک خاص علاقے کی پہچان تھا اور جسے صرف بنگالی زبان کی فلموں تک محدود رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا، پاکستان میں اردو فلموں کی سب سے بڑی ہیروئن بن جائے گی، شاید ہی کسی نے سوچا تھا۔بات ہو رہی ہے شبنم کی، جنھوں نے مشرقی پاکستان سے تعلق ہونے کے باوجود نہ صرف پاکستان کی سب سے معروف اداکارہ بن کر دکھایا بلکہ تین دہائیوں تک لوگوں کے دلوں پر راج بھی کیا۔ 1990 کی دہائی میں پاکستان کی فلمی دنیا کو خیرباد کہنے کے باوجود آج بھی لوگ ان کے انداز کے دیوانے اور ان پر فلمائے گئے گانوں پر جھومتے نظر آتے ہیں۔شبنم پاک و ہند کی واحد اداکارہ ہیں جنھوں نے مسلسل 30 برس تک فلموں میں ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اپنے 40 سالہ فلمی کریئر میں انھوں نے 200 کے قریب فلموں میں کام کیا اور اس دوران انھیں 13 مرتبہ نگار ایوارڈ اور تین مرتبہ نیشنل ایوارڈ بھی ملے۔قیامِ پاکستان سے قبل اگست 1946 میں اس وقت بنگال کے ایک ہندو خاندان میں آنکھ کھولنے والی اس اداکارہ کا اصل نام جھرنا باسک تھا۔ انھوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1960 میں بنگلہ فلم راجدھانیر بوکے سے کیا تھا جسے کیپٹن احتشام نے بنایا تھا۔ایک رقاصہ کا کردار ادا کرنے والی ایکسٹرا میں جانے احتشام نے کیا دیکھا کہ اگلے سال اپنی بنگالی فلم ہرانو دِن میں شبنم کا نام دے کر ہیروئن اور اس سے اگلے سال مشرقی پاکستان کی پہلی اردو فلم چندا (1962) میں مرکزی کردار میں لے لیا۔چندا میں ہیروئن تو سلطانہ زمان تھیں لیکن فلم بینوں کے دماغ پر بھولی بھالی شبنم چھا گئیں۔ ان سب فلموں کے ہیرو رحمان تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں