صفدرآباد میں کم عمر موٹر سائیکل سوار عوام کیلئے وبال جان بن گئے

صفدرآباد(نامہ نگار)کمسن اور نو عمر موٹر سائیکل ڈرائیور شہریوں کیلئے وبال جان بن گئے ۔لوگ اپنے بچوں کو موٹر سائیکل اور سکوٹی دیکر خوشی سے پھولے نہیںسماتے ،جس بچے کو بھی دیکھو اس کے پاس موبائل فون تو لازمی ہو گا ، سو چنے کی بات ہے کہ ایک ٹچ موبائل بھی بیس تیس ہزار کا ملتا ہے حیرانگی ہے کہ عوام اپنے بچوں کو شوق سے انکے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں ،وہ بچہ موبائل لیکر اپنے یاروںکو دکھاتا ہے اور یہی وہ و قت ہے جہاں سے خرابی پیدا ہوتی ہے،ماں باپ تو اس زعم میں ہیں کہ ان کے بچے کے پاس موبائل ہے۔اوپر سے سکوٹی نے دھماکہ کر دیا ہر گلی میں بچے سکوٹی چلاتے پھرتے ہیںاس کا نہ کوئی گاڑی نمبر ہے اور نہ ہی کوئی رجسٹریشن کارڈ ہے،عجیب ملک ہے یار ہم کس طرف جارہے ہیں،کیا ہمارے فوجی جوان ان سکوٹیوں کیلئے قربانیاں دے رہے ہیںکاش کہ ذرا سوچو۔کمسن ڈرایئوروں نے تو ات مچا دی ہے کل ہی اردو بازار میں ایک پانچ سالہ بچہ ایک کمسن موٹر سائیکل ڈرائیورکی غلطی کی بھینٹ چڑھنے سے بال بال بچا ۔وہ تو اللہ نے اس بچے کو بچا لیا ورہ وہ کمسن ڈرائیور تو لے بیٹھا تھا ۔اسسٹنٹ کمشنر صفدرآباد ایکشن لیں اپنے اختیارات کا استعمال کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں