صفدرآباد(نامہ نگار)وفاقی وزیر ریلوے صفدرآباد اسٹیشن کی حالت زارپر رحم کریں،پولیس چوکی قائم کرنیکا اعلا ن فرمائیں،شالیمار ایکسپریس 28 ڈائون کا اسٹاپ منظور کریں، شہریوں کا مطالبہ۔ریلوے اسٹیشن صفدرآباد اس وقت زمانہ قدیم کا منظر پیش کر رہا ہے ،اسٹیشن پر مسافروں کی سہولت کے لئے کوئی بیت الخلاء نہیں ۔انتظار گاہ کا نام و نشان دور دور تک نظر نہین آتا ،پلیٹ فارم نمبر 1 پر سایہ دار شیڈ تو نصب ہے لیکن شیڈ پرانا ہونے کے باعث جگہ جگہ سے ٹوٹ پھو ٹ کا شکار ہونے کی بنا پر بارش کا پانی لیک کرتا ہے جس سے مسافروں اور ان کے سامان کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔مزید کوئی جگہ نہین جہاں مسافر ٹھہرسکیں۔ٹکٹ گھرکی جگہ ہی مسافروں کو بارش اور دھوپ سے بچاتی ہے مگر اس کا حجم کم ہے۔پلیٹ فارم پر بیٹھنے کو بنچ تو موجود ہیں جو شیڈ کے نیچے ہیں دیگر جگہ پر کوئی بنچ نہیں ہیں جس سے ریلوے حکام کی عدم دلچسپی عیاں ہوتی ہے جب کہ پلیٹ نمبر 2 پرہر وقت آوارہ منش لڑکوں کا قبضہ ہے جو کرکٹ کھیلتے رہتے ہیں کرکٹ بال مسافروں کو زخمی کر دیتی ہین کوئی فریاد سنتا نہین نہ ہی فرسٹ ایڈ کی سہولت ہے۔رجسٹر شکایات بھی دستیاب نہیں ،نہ ہی اسٹیشن پر اور نہ ہی ریلوے پھاٹک پر ۔اسٹیشن کا عملہ بغیر وردی کام کر تا ہے کوئی سمجھ نہین آتی کہ ملازم کون ہے اور مسافر کون ہے۔




