فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)طلبہ میں سائنسی تنقیدی سوچ کو پروان چڑھانا ناگزیر ہے تاکہ بہترین صلاحیتوں کی حامل افرادی قوت مستحکم اقتصادی ترقی کو یقینی بنا سکے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی ہدایت پر شعبہ ریاضی و شماریات کے زیراہتمام ایک روزہ تربیتی سیشن بعنوان ”پروجیکٹ بیسڈ لرننگ اور یونیور سٹیوں میں سٹیم ایجوکیشن” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا انعقاد نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن ،ہائر ایجوکیشن کمیشن، برٹش کونسل اور اورک کے اشتراک سے کیا گیا۔ افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف سائنسز ڈاکٹر عامر جمیل نے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے ملاپ سے پیدا ہونے والی تنقیدی سوچ مسائل کے حل تلاش کرنے اور جدت پسندی کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی خداداد صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیںکیونکہ بہترین افرادی قوت روشن مستقبل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ چیئرمین ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نے کہا کہ تنقیدی سوچ تکنیکی ترقی کی اساس ہے جو صنعتوں اور ہماری روزمرہ کی زندگیوں کو نئی جہتوں میں تبدیل کرتے ہوئے ترقی و کامرانی کو یقینی بناتی ہے۔ ڈاکٹر محمد کاشف نے کہا کہ بنیادی سائنس افراد کو پیچیدہ مسائل حل کرنے اور اپنی تعلیم کی مطابقت کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیشن کا مقصد طلبہ میں دورحاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی سوچ پیدا کرنا ہے۔ اس موقع پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ فزکس کے ڈاکٹر کاشف جاوید نے بھی خطاب کیا۔




