عوام ریلیف پیکج کی خیرات نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے صوبائی امیرجاویدقصوری نے کہاہے کہ حکمران عوام کے موڈ کو سمجھ لیں اورپٹرول پر لیوی بھتہ ختم کر دیں۔جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ کراچی سے ٹرین کے ذریعے شروع ہوگا جو ملتان پہنچے گا اور وہاں سے جی ٹی روڈ کے ذریعے قافلہ لاہورجائیگا جہاںسے ملک بھر سے آنے والے قافلے مختلف مقامات پر مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف بڑھیں گے۔تاریخی سپر لانگ مارچ ہوگا۔ چاروں اطراف سے قافلے آئیں گے تو کنٹینرز منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔عوام ریلیف پیکیج کی خیرات نہیں بلکہ اپناحق مانگ رہے ہیں۔ حکمرانوں کے ناٹک اب نہیں چلیں گے، عوام کو ان کا حق دینا پڑے گا۔فیصل آباد پریس کلب میں صوبائی جنرل سیکرٹری بابر رشید،نائب امیرذکراللہ،مجاہد،ضلعی امیر پروفیسرمحبوب الزماںبٹ ،سیکرٹری چوہدری محمد سلیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہم پر امن لوگ ہیں اور آئینی و قانونی اور جمہوری جدو جہد پر یقین رکھتے ہیں، 34روزسے جاری ملک کے 40سے زائد مقامات میں دھرنوںمیں کسی بھی جگہ کوئی ایک پتھر بھی نہیں پھینکا گیا اور نہ کسی بھی املاک کو کوئی نقصان پہنچایا، ہم اسلام آباد میں انتہائی منظم اور پر امن طور پر داخل ہوں گے، چاروں طرف سے لوگ اسلام آباد پہنچیں گے، حکومت کے کنٹینرز اور رکاوٹیں راستہ نہیں روک سکیں گی اور اگر حکومتی طاقت اور تشدد سے راستہ روکنے کی کوشش کی گئی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ عوام کی جماعت اسلامی کے دھرنوںاورجلسوںمیں بڑی تعداد نے شرکت کرکے ثابت کیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہیں۔ عوام کی اتنی بڑی طاقت دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کے حق پر ڈاکہ مار رہے ہیں، لوگ غصے میں ہیں۔ حکومت بجلی اور پیٹرول کے بم عوام پر گراتی ہے اور ہر مرتبہ عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔بھارت میں جنگ کے دوران بھی پیٹرول کی قیمت میں پاکستانی روپوں کے حساب سے 35 روپے سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا، یہاں صورتحال یہ ہے کہ ابھی خلیج میں میزائل نہیں چلتا مگر پاکستان میں عوام پر پیٹرول کی قیمتوں کی صورت میں میزائل پہلے چلا دئیے جاتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ایک طرف حکومت عوام سے بھتا نما ٹیکس وصول کر رہی ہے، دوسری طرف پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی عائد ہے۔ حکومت اس وقت ایک لٹر پیٹرول پر 80 روپے لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ لیوی وصول کر رہی ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی اقسام کے ٹیکسز لیے جاتے ہیں۔ حکومت غنڈہ گردی کرے اور بھتا وصول کرے تو ملک کا نظام کیسے چلے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ریفائنریز مافیا بھی آپس میں ملا ہوا ہے اور عوام کا خون چوس رہا ہے۔ گزشتہ سال حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1550 ارب روپے سے زائد وصول کیے، جبکہ رواں سال 1700 ارب روپے لیوی جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اگر صرف سود کی شرح میں تین فیصد کمی کردی جائے تو لیوی سے حاصل ہونے والی رقم سے بھی زیادہ پیسے بچائے جاسکتے ہیں۔ حکومت عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرے اور سودی نظام سے نجات کے لیے عملی اقدامات کرے۔انہوںنے واضح کیا کہ لانگ مارچ صرف پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے سے رک سکتا ہے۔ جب تک لیوی کے نام پر عوام سے بھتا وصول ہوتا رہے گا، سپر لانگ مارچ بھی جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں