غزہ میں اسرائیلی جنگ بندی محض دکھاوا قرار

کراچی (بیوروچیف) پاکستان سنی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی محض دکھاوا ثابت ہو رہی ہے،کیونکہ جنگ بندی کے دعوں کے باوجود فلسطینی عوام پر مظالم کا سلسلہ مختلف صورتوں میں جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ نہتے فلسطینیوں کو خوراک، ادویات،علاج معالجے اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم رکھنا انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کی خاموشی مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔بلال سلیم قادری کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں،اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔محض مذمتی بیانات اور رسمی اجلاسوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کا پابند بنانے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام کے تقریبا تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔فلسطینی اپنے ہی وطن میں آزادی سے نقل و حرکت،تعلیم، صحت،روزگار اور امن و سکون کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق سے محروم ہیں۔غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جاری ناکہ بندی نے لاکھوں افراد کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ خواتین،بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔بلال سلیم قادری نے کہا کہ دنیا انسانی حقوق،جمہوریت اور انصاف کے بلند و بانگ دعوے تو کرتی ہے لیکن جب بات فلسطینی عوام کی آتی ہے تو اکثر طاقتور ممالک خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔یہی دوہرا معیار عالمی امن اور انصاف کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اگر دنیا واقعی انسانی حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے تو اسے فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے ظلم،جبر،محاصرے اور ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے اور ایک منصفانہ و پائیدار حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔بلال سلیم قادری نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام ہمیشہ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی ہر سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھے گی۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کی بھرپور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے اور عالمی فورمز پر فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید موثر آواز بلند کی جائے۔وقت آ گیا ہے کہ دنیا مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار صرف الفاظ تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے انصاف،امن اور انسانی وقار کی بحالی کو یقینی بنائے۔ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی ہی مشرق وسطی میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں