غیر ملکیوں کی کلیئرنس کروانے والوں کا سراغ مل گیا

اسلام آباد (بیوروچیف)وفاقی تحقیقاتی ادارےFIA کے اینٹی کرپشن یونٹ نے کال و ڈیجیٹل سینٹر کے ذریعے دھوکادہی، ویزہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنیوالے غیر ملکیوں سے رشوت لے کر کلیئرنس کروانیوالے نیٹ ورک کا سراغ لگادیا۔ ایف آئی اے اسلام آباد زون کے اینٹی کرپشن یونٹ نے دارالحکومت میں مبینہ کال و ڈیجیٹل سینٹز کے ذریعے دھوکا دہی، جعلسازی سمیت ویزہ پابندیوں کی خلاف ورزیوں میں ملوث غیر ملکیوں سے مبینہ رشوت لیکر امیگریشن کلیئرینس دلوانے اور موومنٹ وسرگرمیوں کے دوران سہولیات فراہم کرنے والے چینی باشندے سمیت اسلام آبا پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ اور امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے دو اہلکاروں کو گرفتار کرکے دو کروڑ روپے کی رقم اور دستاویزات برآمد کرلیں۔ایف آئی اے کے مطابق حراست میں لیے گئے غیرملکی اور دونوں اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، غیر ملکیوں کوسرگرمیوں پر تحفظ فراہم کرنے کے لیے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کو بھی ماہانہ بھتہ دینے کا الزام ہے۔حکام کے مطابق گزشتہ دنوں اسلام آباد سے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں پر گرفتار بعض غیرملکیوں نے ایف آئی اے انسداد انسانی سمگلنگ سیل کی تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کیے۔ملزمان نے بتایا کہ بعض غیر ملکی شہریوں نے ایف آئی اے امیگریشن، امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور اسلام آباد پولیس کے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کا منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جو غیر قانونی مالی مفاد/رشوت کے عوض غیر ملکی شہریوں کی امیگریشن کلیئرنس اور موومنٹ وسرگرمیوں میں سہولت کار فراہم کرتے ہیں۔15 اگست کو چینی شہری Xiao Jingping alias Jack/Jason نے مزید انکشاف کیا کہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے اہلکار جنید مغل اور اسلام آباد پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکار ظفر اقبال و دیگر افراد کی ملی بھگت سے فی مسافر 80 ہزار روپے رشوت دے کر انہیں امیگریشن کلیئرنس کی سہولت فراہم کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں