وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 2026-27ء کیلئے 18ہزار 771 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف 4فیصد’ افراط زر کی اوسط شرح 8.22 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ مزدور کی کم ازکم اجرت وتنخواہ میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کیلئے چار سلیبز پر ٹیکس میں کمی اور سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔ فائلرز کیلئے جائیداد کی خریداری وفروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ فائلرز کیلئے جائیداد فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 5.5 سے کم کر کے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 5کروڑ روپے تک کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 5 کروڑ روپے تک مالیت کی پراپرٹی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 5کروڑ 10کروڑ مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی خریداری پر بھی ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ جس سے تمام بڑی کیٹیگریز میں سرمایہ کاروں کو یکساں ریلیف ملے گا جو کہ خوش آئند ہے۔ بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی پر عائد ایک فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور وطن کے ساتھ ان کے معاشی روابط مزید مضبوط ہونگے۔ شپنگ انڈسٹری کے فروغ کیلئے اس شعبے پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر کے صفر کر دیا گیا ہے جو کہ قابل تحسین ہے۔ یقینی طور پر اس فیصلے سے لاجسٹکس اور میری ٹائم سیکٹر کو فروغ ملے گا۔ ریفائننگ سیکٹر کے لیے بھی حکومت نے بران فیلڈ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اور متعلقہ درآمدات پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر کے صفر فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے میں معاون ثابت ہو گا۔ صنعتوں اور برآمدات کو مزید فروغ دینے کے لیے بجٹ میں ایکسپورٹرز کے لیے ایڈوانس اور مینیم ٹیکس’ جو پہلے مجموعی طور پر 2 فیصد تھا، کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 50کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز پر سپرٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ 50 کروڑ روپے سے زیادہ کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز کے لیے سپرٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے درآمدی لگژری گاڑیوں’ بڑی ایس یو ویز اور لگژری الیکٹرانک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ درآمد کی جانے والی کاروں اور دو ہزار سی سی سے بڑی اور تین ہزار سی سی تک ایس یو وی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے۔ تین ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی بڑھائی جا رہی ہے۔ اس ٹیکس کا اطلاق دو کروڑ سے مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑی پر بھی ہو گا۔ الیکٹرک موٹرسائیکل’ رکشوں’ گاڑیوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا۔ اس سلسلے میں درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ ان سہولیات سے انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ بجٹ میں آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس کی موجودہ 0.25 فیصد رعایتی شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس شعبے کو پالیسی کا تسلسل اور اعتماد حاصل رہے۔ وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے پاکستان سے کی جانے والی آن لائن ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے پاکستانیوں کو غیر ملکی مالی اثاثے ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ملے گی۔ وفاقی بجٹ میں حکومت کی خالص آمدن کا تخمینہ 11ہزار 751 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اندرونی ذرائع سے 2034 ارب’ بیرونی ذرائع سے 813 ارب کا قرض ملے گا۔ حکومت ٹی بلز’ پاکستان انویشمنٹ بانڈز’ سکوک سے 4012 ارب روپے حاصل کرے گی۔ حکومت کیلئے چیلنج صرف اعداد وشمار بہتر بنانا ہی نہیں بلکہ معیشت کو ایسی بنیاد فراہم کرنا ہے جو پائیدار’ خودکفیل اور عوامی فلاح پر مبنی ہو، یہی وہ معیار ہے جس پر اقتصادی سروے کے دعوئوں اور بجٹ کے وعدوں کی اصل جانچ ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی بجٹ میں مزدور کی ماہانہ اجرت جو کہ 40ہزار مقرر کی تھی اس میں 10 فیصد اضافہ بھی کر دیا گیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ اس پر حکومت کو عملدرآمد کروانے کی بھی ضرورت ہے۔ نیز وفاقی بجٹ میں کاروباری طبقہ نے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکومت اس پر ہمدردانہ غور کرے اور بجٹ کو ہر لحاظ بہتر اور ہر طبقہ کے لیے تسلی بخش بنایا جائے۔




