زرعی شعبے کی ترقی کیلئے مؤثر اقدامات ضروری ہیں (اداریہ)

وزیراعظم سے زرعی شعبے کے سٹیک ہولڈرز کے وفد نے ملاقات کی وفد میں پاکستان تنظیموں ڈیری لائیو سٹاک بیج بنانے والی کمپنیوں کے نمائندے قومی اور ملٹی نیشنل اداروں کے نمائندے بھی شامل تھے۔ شرکاء نے سیڈپالیسی اور زرعی اصلاحات کا خیرمقدم کیا اور زرعی اصلاحات کو زرعی شعبے کیلئے گیم چینجر بھی قرار دیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا زرعی شعبے کی اصلاحات کو بہتر بنانے کیلئے اجلاس طلب کرنا خوش آئند ہے اور کاشتکاروں اور کسانوں کیلئے امید کی ایک کرن بھی ہے۔ ملک میں ”سبز انقلاب” لانے کیلئے وزیراعظم کا زرعی ماہرین سے اجلاس ایک احسن اقدام ہے۔ معیشت کو بحال کرنے میں زرعی شعبہ انقلابی تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے ماہرین اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی بنانے’ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی بھی ہدایت کی۔ ازسرنوتشکیل شدہ کاٹن بورڈ کا فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور فیصلہ کیا گیا کہ زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کیلئے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت تعاون کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ زرخیزی سکیم کے تحت چھوٹے کسانوں کو بنکوں سے ایک ملین روپے تک قرض بھی فراہم کیا جا رہا ہے جو کہ حکومت کا احسن اقدام ہے۔ کسانوں کو سٹیٹ بنک کی جانب سے سم کوریج سکیم اورکراپ لاس انشورنس فراہم کی جا رہی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل بھی تیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری ہماری ترجیح ہے۔ نجکاری کے عمل کو انتہائی شفاف طریقے سے مکمل بھی کیا جائے گا۔ پاکستان میں عرصہ دراز سے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف خصوصاً گندم کی جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ان کے خلاف بھی سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے یہی ذخیرہ اندوز جب ملک میں گندم کا بحران آتا ہے تو مہنگے داموں اپنی گندم کو فروخت کیلئے ریٹ میں اضافہ کر کے گندم کو فروخت کرتے ہیں جوکہ عام آدمی کی پہنچ سے آٹے کی قیمتیں بھی دور ہو جاتی ہیں اور ذخیرہ اندوز اپنی من پسند قیمت پر گندم فروخت کر دیتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبہ پنجاب کی ترقی کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے اور آئے روز پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں آٹے اور گندم کے نرخ میں استحکام لانے کیلئے پاسکو سے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری بھی دیدی جو کہ پنجاب حکومت کا احسن اقدام ہے جس کے تحت صوبے میں آٹے کا نرخ مناسب اور مارکیٹ میں استحکام پیدا ہو گا۔ سستی روٹی اور سستا آٹا یقینی بنانے کیلئے فلور ملوں کو گندم 3300 روپے فی من فراہم کی جائے گی۔ صوبے کی غذائی ضروریات پورا کرنے کیلئے سٹاک ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زرعی خود کفالت بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ زرعی ترقی کیلئے حکومت کو کسانوں’ کاشتکاروں کو معیاری کھاد کی فراہمی کیلئے خصوصی اقدامات بروئے کار لانا ہونگے۔ انڈیا پاکستانی دریائوں کا پانی روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انڈیا کو ”سندھ طاس” معاہدے کی پاسداری کرنے کے بارے میں مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پانی جو کہ ہماری ضرورت بھی ہے۔ دنیا میں آئندہ جنگیں پانی پر ہی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانی ہماری زراعت کیلئے بہت ہی ضروری ہے۔ ملک میں زرعی انقلاب کیلئے پانی کی وافر مقدار میں موجودگی اور نہری نظام کو موثر ترین بنانے کی حکمت عملی بھی طے کرنا ہو گی ۔ زمین داروں اور کاشتکاروں کو درکار پانی فراہم کیا جائے جو ملک میں ”سبز انقلاب” کیلئے مددگار ثابت ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں