مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضرورت (اداریہ)

بنی نوع انسان کی بقاء اسی میں ہے کہ جنگ کا راستہ چھوڑ کر انسانیت کی فلاح وبہبود کی خاطر کام کئے جائیں اور بھوک سے سسکتی ہوئی انسانیت کو بچانے کیلئے ایسے مثبت اقدامات اٹھائے جائیں کہ انسانیت کا وجود اس کرہ ارض پر باقی رہ جائے’ جنگیں کسی بھی طرح مسائل کا حل نہیں ہے اور ہر فریق کو ”ٹیبل ٹاک” ہی کی جانب ہی رجوع کرنا چاہیے۔ ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ساری دنیا بھی امن کے نظریے پر کاربند ہے، دنیا میں امن ہو گا تو انسانیت کو اس دنیا میں جینے کا حق بھی نصیب ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مشرق وسطیٰ میں حالیہ تشدد کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے فریقین سے تحمل وبردباری’ امن کو مزید ایک موقع دینے اور تشدد اور تباہی کے راستے کی بجائے امن اور سفارت کاری کی راہ پر قائم رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ ایک کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کتنے سنگین خطرات اور ناقابل برداشت نتائج کا باعث بن سکتی ہے ہم اپنے برادر ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پرامن سفارتی حل کیلئے خلوص نیت اور انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت جب ایک منصفانہ اور پائیدار حل کا مقصد قریب دکھائی دے دیا ہے۔ ہم تمام فریقوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں اور امن کو مزید ایک اور موقع دیں۔ ہمیں تشدد اور تباہی کے راستے کی بجائے امن اور سفارتکاری کی راہ پر قائم رہنا ہو گا جس کی کامیابی کے امکانات روشن اور حوصلہ افزاء ہیں۔ دوسری جانب ایران اور اسرائیل کی طرف سے حملے روکنے کے اعلان کے بعد دوبارہ امن عمل بحال ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران نے نہ محاذ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے۔ اگر اسرائیل کی جانب سے دوبارہ جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایران نے نہ جنگ کا میدان اور نہ ہی مذاکرات کی ٹیبل چھوڑی ہے۔ ایران کسی بھی خطے کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کریگا۔ ادھر ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کر سکتا، گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ اس سے سفارتی عمل میں مزید مشکل ہو جائے گی۔ کوئی مان نہیں کر سکتا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے بغیر خطے میں حرکت کر سکتا ہے۔ جو کجھ بھی ہو رہا ہے وہ امریکہ کی طرف سے ترتیب دیا گیا تھا۔ امریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے اب تک سفارتی راستے کو متاثر کیا ہے۔ ہم انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے۔ ایرانی فوج نے سعودی عرب پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بند بھی نہیں ہوا ہے۔ ایران میں تمام پروازیں تاحکم ثانی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ملک کی فضائی حدود کے مغربی حصے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ قطر کی فضائی حدود بھی بند ہے۔ موجودہ نوٹم کا مقصد متبادل محفوظ فضائی راستون کا تعین کرنا ہے۔ دوسری جانب عراق اور شام کی فضائی حدود بھی مکمل طور پر بند ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں اگر پائیدار امن قائم کرنا ہے تو جنگوں کا راستہ روکنا ہو گا۔ پوری دنیا کے بڑے ممالک اب سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ ان تمام ممالک کا بھی یہی ماننا ہے کہ جنگیں کسی بھی صورت مسائل کا حل نہیں ہوتی فریقین کو صلح کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اسی میں دنیا اور انسانیت کی بقاء ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں