فیسکو حکام کی نااہلی،بجلی صارفین درپیش مسائل حل نہ ہونے سے پریشان

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیسکو حکام کی لاپرواہی’ بوسیدہ بجلی نظام دکانداروں اور تاجروں کیلئے وبال جان بن گیا، 20دنوں کے دوران کپڑا مارکیٹ میں تین بار آگ لگنے کے باوجود بے ہنگم تاروں کا مسئلہ حل نہ ہونا حیران کن ہے، شہری حلقوں کا صورتحال پر احتجاج۔ تفصیل کے مطابق فیصل آباد کے آٹھ بازاروں اور ملحقہ گلیوں سمیت مختلف مارکیٹوں حتیٰ کہ کئی گلی محلوں میں بجلی کی لٹکتی تاریں لوگوں کیلئے شدید خطرہ بن چکی ہیں، صورتحال کی ابتری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 20دنوں کے دوران کپڑا مارکیٹ میں تین بار شارٹ سرکٹ کے باعث آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جس کے باعث تاجروں اور دکانداروں کو سخت نقصان کا سامنا کرنا پڑا، پریس مارکیٹ میں بھی ہر طرف بجلی کی بے ہنگم تاریں راہگیروں اور دکانداروں کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ بجلی تاروں کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ”دہائی” دی جائے تو فیسکو سب ڈویژن کا عملہ توجہ نہیں دیتا اور SDO بھی سنی اَن سنی کر دیتا ہے، بجلی کی لٹکتی تاروں کا مسئلہ دکانداروں اور خریداروں کیلئے درد سر بن چکا ہے، بجلی کی فراہمی کے بوسیدہ نظام کے باعث آئے روز ٹرانسفارمرز خرابی کی شکایات پیدا ہونے لگی ہیں اور لوڈ کم یا زیادہ ہونے سے بھی نقصانات ہو چکے ہیں۔ دکانداروں نے بوسیدہ بجلی نظام اور لٹکتے تاروں کو آتشزدگی کے واقعات کا سبب قرار دیتے ہوئے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ پریس مارکیٹ’ کپڑا مارکیٹ اور دیگر علاقوں میں بجلی کی بے ہنگم تاروں کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔دریں ثناء ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیسکو افسران اور نکمے عملہ کی نااہلی کھل کر سامنے آ گئی، گیارہ روز گزرنے کے باوجود ستیانہ روڈ گلی نمبر9 میں زمین بوس ہونے والا غنی پلازہ اور اسکی ملحقہ شاپس کی تاحال بجلی بحال نہ ہو سکی، جسکی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بُری طرح متاثر، تاجر برادری فیسکو کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ شب ستیانہ روڈ پر جھال مارکیٹ گلی نمبر9 میں واقع غنی پلازہ مرمت کے دوران زمین بوس ہو گیا اور اس کے ملبے تلے دب کر مالک اور گاہکوں سمیت 8افراد بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور فیسکو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر بجلی منقطع کر دی تھی۔ تاہم ملبہ اٹھایا جانے کے بعد اور کاروباری سرگرمیاں شروع ہونے کے باوجود گیارہ روز گزرنے کے باوجوود ابھی تک بجلی کو فعال نہ کیا جا سکا۔ تاجر برادری کا کہنا ہے ایک طرف فیسکو بھاری بھر کم بل وصول کرتا ہے اور اسکی سروسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فیسکو کو بار بار درخواست گزارنے کے باوجود فیسکو کے نااہل اور کرپٹ عملہ بجلی کو فعال کرنے کیلئے نہ پہنچ سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ لاکھوں روپے ماہانہ بل ادا کرنے والے تاجروں کو سہولیات دینے سے قاصر ہے اور مبینہ طور پر فیسکو کا عملہ نذرانہ وصول کئے بغیر کام نہیں کرتا۔ تاجروں نے فیسکو چیئرمین سمیت ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ جھال مارکیٹ گلی نمبر9 غنی پلازہ اور اس سے ملحقہ دکانوں کی بجلی کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں