ٹوبہ ٹیک سنگھ (نامہ نگار) وہ لمحہ کتنا خوش نصیب ہوگا جب ایک ننھے بچے کے سینے میں قرآن پاک کے تیس پارے محفوظ ہوجائیں وہ ماں باپ جنہوں نے اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا آج اپنے لخت جگر کو حافظ قرآن بنتے دیکھ کر خوشی سے نہال ہیں ریونیو کالونی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہائشی ننھے محمد سبحان ولد محمد اجمل ٹھیکیدار نے جامع رضویہ انوار مصطفی پیڑا کالونی میں قرآن پاک مکمل حفظ کر کے اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کر دیا، محمد سبحان کی کم عمری میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت بلاشبہ اللہ تعالی کا خصوصی فضل و کرم ہے، جب ننھے حافظ نے آخری آیا ت مکمل کیں تو جامع رضویہ انوار مصطفی کا ماحول
روحا نیت سے بھر گیا ہر آنکھ خوشی سے نم اور ہر دل سے بے اختیار سبحان اللہ ماشااللہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں یہ صرف ایک بچے کے حافظ بننے کی خبر نہیں بلکہ یہ اس ماں کی دعائوں کی قبولیت ہے جس نے اپنے بچے کے لیے نہ جانے کتنی دعائیں مانگی ہوں گی یہ اس باپ کی محنت کا صلہ ہے جس نے اپنے لخت جگر کو قرآن کی راہ پر لگایا اور یہ ان اساتذہ کی محنت کا ثمر ہے جنہوں نے ننھے سینے کو کلامِ الٰہی کا امین بنا دیا، بانی ومہتمم جامع رضویہ انوار مصطفی پیر آفتاب احمد قادری عطاری برکاتی اور حافظ عقیل نے ننھے حافظ قرآن محمد سبحان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کو سینے میں محفوظ کرنا دنیا کی سب سے بڑی سعادتوں میں سے ایک ہے۔




