فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) پنجاب بار کونسل کے حکم پر لائسنس منسوخ ہونے پر مشتعل وکیل کا ڈسٹرکٹ بار میں ہنگامہ، توڑ پھوڑ کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں طارق محمود ایڈووکیٹ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مہر علی رضا سپرا سابق وکیل اور انکے5نامعلوم ساتھیوں کیخلاف تھانہ کوتوالی پولیس 149,148,506,440ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کے صدر میاں طارق محمود ایڈووکیٹ نے بتایا کہ 25جولائی کو پنجاب بار کونسل کی ہدایت پر مہر علی رضا سپرا اور فہیم ظفر رجوکہ کے وکالت کے لائسنس منسوخ کرتے ہوئے بار کی حدود میں داخلے و پریکٹس پر پابندی عائد کر کے حکمنامہ نوٹس بورڈ پر آوایزاں کر دیا جس کا سابق ایڈووکیٹ مہر علی رضا سپرا سکنہ199ج ب کو شدید رنج ہوا وہ اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے احاطہ میں داخل ہوئے نوٹس بورڈ پرآویزاں حکمنامہ پھاڑ دیا اور نوٹس بورڈ کو توڑ دیا جس پر وکلاء میںبھگڈر مچ گئی اور ڈسٹرکٹ بار کے صدر اور ممبران بار کیخلاف انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ، جس پر کوتوالی پولیس نے ڈسٹرکٹ بار میاں طارق محمودکی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔




