لیڈی ڈاکٹر کی خودکشی،پولیس بے خبر،ہسپتال انتظامیہ نے چپکے سے نعش لواحقین کے سپرد کردی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ڈپریشن کا شکار اسسٹنٹ پروفیسر گائناکالوجسٹ لیڈی ڈاکٹر غزالہ ناز نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی’ جنرل ہسپتال غلام محمد آباد انتظامیہ نے پولیس کو خودکشی کی رپورٹ کرنے کی بجائے نعش لواحقین کے سپرد کر دی تو لواحقین نے بھی پولیس کو اطلاع کرنیکی بجائے لیڈی ڈاکٹر کی تدفین کر دی۔ تھانہ گلبرگ کے علاقہ گلبرگ بی کی رہائشی اسسٹنٹ پروفیسر گائنالوجسٹ لیڈی ڈاکٹر غزالہ ناز جنرل ہسپتال غلام محمد آباد میں فرائض سرانجام دیتی تھی، لواحقین کے مطابق ڈاکٹر غزالہ ناز ڈپریشن کی مریضہ تھی اور وہ ڈپریشن کی گولیاں کھاتی تھیں۔ تاہم 16مئی کو نے اپنے بیٹے کے سامنے ڈپریشن کی دوائی کھانے کی بجائے گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں نگل لیں، حالت غیر ہونے پر لواحقین پرائیویٹ گاڑی پر الائیڈ ہسپتال لایا گیا اور بعدازاں کچھ دیر بعد حالت نہ سنبھلنے پر مریضہ کو جنرل ہسپتال غلام محمد آباد لے آئے، جہاں پر دوران علاج لیڈی ڈاکٹر غزالہ ناز زندگی کی بازی ہار گئی۔ جنرل ہسپتال غلام محمد آباد نے مبینہ طور پر لیڈی ڈاکٹر کی خودکشی کو چھپانے کیلئے پولیس کو اطلاع کئے بغیر نعش لواحقین کے حوالے کر دی تو اہل خانہ نے اکبر آباد قبرستان میں تدفین کر دی اور صورتحال سے پولیس بھی بے خبر رہی۔ تاہم لیڈی ڈاکٹر کی خودکشی کے خبر ملنے پر تھانہ گلبرگ پولیس نے اہل خانہ سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ متوفیہ کی کسی سے گھریلو ناچاقی نہ ہے اور کوئی قانونی کارروائی نہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم پولیس نے تدفین کے بعد رپورٹ تیار کر کے اعلیٰ افسران کو بھجوا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں