ٹھیکریوالہ (نامہ نگار)محکمہ تعلیم پنجاب نے صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو 14 اگست یوم آزادی کی تقریبات منعقد کرنے سے روک دیا ہے۔ سکول مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر تعلیمی ادارے کھول کر تقریبات کا انعقاد کیا گیا تو بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اور رجسٹریشن منسوخ کرنے تک کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔بنیان المرصوص آپریشن میں کامیابی اور افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے طلبا و طالبات اور اساتذہ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں تقریبات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاہم محکمہ تعلیم کی جانب سے اس کی اجازت تاحال جاری نہیں کی گئی۔پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں گرمیوں کی تعطیلات کے بعد نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے کھول دیے گئے ہیں اور جشنِ آزادی کی بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔ دیگر صوبوں میں سرکاری و نجی سطح پر تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، مگر پنجاب میں محکمہ تعلیم کی پابندی نے تعلیمی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔پرائیویٹ سکولز فورم پنجاب کے چیئرمین رانا شاہد مقرب، چوہدری ندیم سندھو، محمد اسلم بٹ، شیخ غلام سرور، ملک طارق، چوہدری یوسف، سید ابرار حسین شاہ، گلزار حسین، رانا خلیل احمد، وارث عطاری، میاں ندیم شہزاد، محمد اویس، رانا جابر رشید و دیگر رہنماں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم پنجاب کی جانب سے گرمی کی شدت میں اضافے کا جواز بنا کر جشنِ آزادی کی تقریبات پر پابندی ناقابلِ فہم ہے۔رہنمائوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ پنجاب حکومت کے اس رویے کا فوری نوٹس لیں اور محکمہ تعلیم کو ہدایت جاری کریں کہ سکولوں میں جشنِ آزادی کی تقریبات کے انعقاد کی اجازت دی جائے، تاکہ طلبا و طالبات اپنے ملک سے محبت اور یکجہتی کا عملی اظہار کر سکیں۔




