فیصل آباد (وقائع نگار خصوصی) مریم نواز سرکار نے مہنگائی’ بیروزگاری’ یوٹیلیٹی بلوں اور مختلف ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے پنجاب کے عوام پر کوڑا ٹیکس کا بوجھ بھی ڈال دیا، فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں بعض دکانداروں کے ماہانہ بجلی کے بلوں سے بھی زیادہ انہیں کوڑا ٹیکس لگا دیا گیا جس پر دکانداران سر پکڑ کر بیٹھ گئے، کوڑا ٹیکس کا نفاذ اپنی جگہ پر لیکن صفائی ستھرائی نہ ہونے کے برابر۔ تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل فیصل آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں گھروں’ دکانوں اور کمرشل پلازوں پر کوڑا ٹیکس کا نفاذ کیا گیا، شروع شروع میں ستھرا پنجاب اتھارٹی فیصل آباد کے ذمہ داران نے اپنے طور پر کوڑا ٹیکس کے بلز بھجوائے اور اس کی کولیکشن پنجاب بینک کے ذریعے کروائی لیکن دو’ تین ماہ بعد یہ سلسلہ رُک گیا، اب پنجاب حکومت کے احکامات پر ستھرا پنجاب اتھارٹی کا کوڑا ٹیکس ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے وصول کرنے کا پروگرام بنایا گیا اور اسی ڈیپارٹمنٹ کے وساطت سے گھروں’ دکانوں اور پلازوں کے مالکان کو 6،6 ماہ کا کوڑا ٹیکس جمع کروانے کے بلز بھجوا دیئے گئے ہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں میں یہ کوڑا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ رہائشی مکانوں (پانچ مرلہ تک) کو فی مرلہ 100 روپے کے حساب سے کوڑا ٹیکس لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد 7مرلہ’ 10مرلہ’ 1کنال اور اس سے زائد کے گھروں کے کوڑا ٹیکس کی ریشو مختلف ہے۔ عام دکاندار کو 3ہزار روپے ماہانہ کوڑا ٹیکس لگایا گیا ہے اور ان دکانداروں کو 6ماہ یکمشت کوڑا ٹیکس (یعنی جولائی تا اگست2026ئ) کل 18ہزار روپے جمع کروانے کے بل بھجوا دیئے گئے ہیں۔ جس پر مذکورہ دکانداران سراپا احتجاج ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر وبیشتر دکانداروں کا ماہانہ بجلی بل 3ہزار روپے سے بھی کہیں کم ہے۔ مگر انہیں کوڑا ٹیکس 3ہزار روپے فکس کر دیا گیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ اتنا زیادہ ٹیکس کسی صورت میں بھی ادا نہیں کر سکتے، بعض چھوٹے گھروں کے مالکان نے بھی اس کوڑا ٹیکس کو اضافی بوجھ اور مریم سرکار کی زیادتی قرار دیا ہے۔ کوڑا ٹیکس کی وصولی اپنی جگہ پر مگر فیصل آباد شہر اور خاص طور پر گردونواح کے علاقوں میں صفائی ستھرائی کا نظام انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ ستھرا پنجاب اتھارٹی کوڑا ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے اکٹھا کرے گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صفائی ستھرائی کے نظام کو موثر ترین بنایا جائے اور دکانداروں پر عائد کوڑا ٹیکس کی رقم میں بھی کمی کی جائے۔




