فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ حکومتی عدم توجہی کے باعث ملکی انڈسٹری کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ممالک کی نسبت وطن عزیز میں مہنگی بجلی کے باعث ایکسپورٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں انڈسٹری کی بتدریج بندش کے باعث محنت کشوں کاروز گار چھن جانا لمحہ فکریہ اور حکومت کیلئے کھلا چیلنج ہے پاکستان کی نسبت دنیا بھر میں بینکوں کا ریٹ آف انٹرلسٹ بھی زیادہ ہے مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور دیگرعوامل کے باعث صنعت کاروں کو مشکل کا سامنا ہے ، ایشیاء کے کئی ممالک سستی بجلی اور دیگر مراعات ملنے کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی ساکھ بہتر کر چکے ہیں وہاں ایکسپورٹرز کو تمام تر سہولیات بھی بہم پہنچائی جاتی ہیں مگر پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور حکمرانوں کی عوامی مسائل کی جانب کوئی توجہ نہ ہے چنانچہ اس کے لئے ضروری ہے کہ برآمد کنندگان کے نمائندگان کو فوری طور پر اعتماد میں لیا جائے اور سستی بجلی کی فراہمی سمیت بینک انٹرلسٹ کو زیروریٹڈ کرنے کیلئے پالیسی وضع کی جائے انڈسٹری کا پہیہ چلے گا تو ملک چلے گا لوگوں کو روزگار ملے گا حکومت کو ریونیو حاصل ہو گا لہٰذا ضروری ہے کہ ہر روز بیکار اور فضول منصوبوں کے لئے اربوں روپے مختص کرنے کی بجائے بجلی گیس کے نرخوں میں کمی کی جائے۔ اگر ملک میںانڈسٹری کو فروغ ملے گا تو ہمیں عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کی نوبت نہیں آئے گی برآمدکنندگان کے سمائل کے حل، اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی ساکھ میں بہتری لانے کیلئے ترجیحی اقدامات اشد ضروری ہیں۔




