منافع خور مافیا بے قابو،چینی کے بعد آٹے کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں

فیصل آباد (آن لائن) مصنوعی مہنگائی کاجن ایک بار پھر بے قابو، چینی کے بعد فلور ملزمافیا میدان میں آگیااوپن مارکیٹ گندم کی قیمت میں بھی فی من 500سے 600روپے اضافہ، چکی مالکان نے آٹا 10سے 15روپے فی کلو مہنگا کردیا،فیصل آباد سمیت صوبے بھر میں ضلعی انتظا میہ مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل طو رپر ناکام،منافع خور مافیا کے سامنے انتظامیہ بے بس،چینی 190سے 200روپے فی کلو ہوگئی، برائلر مرغی کا گوشت 760روپے فی کلو ہوگیا، ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کی و جہ سے پھل وسبزیاں بھی مہنگی،چینی، دودھ،دہی،گوشت سمیت بیکری اور سبزیوں کی قیمتوں کی کوئی ریٹ لسٹ نہیں، غلہ منڈی،سبزی منڈی، قصاب،دودھ فروش اور پولٹر ی مافیا کے اپنے ہی نرخ نامے ،مارکیٹ اور بازاروں میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندازوں نے اپنے اپنے ریٹ مقرر کررکھے ہیں،ضلعی سطح پر انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے پنجاب حکومت مصنوعی مہنگائی، منافع خوروں اور ذخیرہ اندازوں سے بے بس ہوگئی، آن لائن کے مطابق حکومت پنجاب کے مہنگائی کو کم کرنے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں ایک بار پھر مہنگائی کا جن کنٹرول سے باہر ہوچکا ہے چینی کے بعد گندم ما فیا بھی سر گرم ہو گیا،فیصل آباد سمیت پنجا ب بھر میں گندم بحرا ن پیدا ہو نے کا خدشہ بڑھ گیا، بتا یا گیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں 700روپے فی من اضا فہ ہو گیا، جس کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں 20روپے اضا فہ ہو گیا ہے، جبکہ چکی ما لکا ن نے بھی آٹے کی قیمت میں 15رو پے فی کلو اضا فہ کر دیا ہے، چکی ما لکا ن کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ میں گندم کی مارکیٹ میں قیمت 2200سے 2300روپے فی من تھی جس میں اچا نک 700سے 800روپے فی من اضا فہ ہو گیا ہے،فلور ملز ما لکا ن نے بھی آٹے کی قیمت میں 10کلو والے آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 160سے 200رو پے اضا فہ کر دیا ہے، 10کلو والا آٹے کا تھیلا870روپے کا ہوگیا، آٹے کی قیمتوں میں اضا فہ کی وجہ فلور ملز ما لکا ن نے گندم کو جا نوروں کی خوراک کیلئے استعما ل کر نا شروع کر دیا،جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضا فہ ہو رہا ہے، اور چکی ما لکا ن کاآٹے کی قیمتوں میں اضا فہ کر نا مجبوری ہے اگربات کی جائے گھریلو استعمال کی اہم اشیا کی تو برئلر مرغی کاگاشت،دودھ، پھل وسبزیاں،چینی، آٹا کوکنک آئل سمیت بیکری اور سبزیوں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ جاری ہے شادیوں اور ربیع الاول کا چاند نظر آنے کے ساتھ ہی پرچو ن سطح پر فی کلو برا ئلر مر غی کے گو شت کی قیمتوں میں اضا فے کا رحجا ن جا ری ہے، گزشتہ ایک ماہ قبل600 روپے گوشت فی کلوجبکہ زندہ مرغی 403روپے فی کلو قیمت روپے تھی جو کہ اب 150روپے اضا فے سے 750روپے ہو گئی ایک ماہ کے دوران 150 روپے اضافہ کردیا گیاہے پولٹری مافیا بھی شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہاہے جبکہ سبزی مارکیٹ میں بھی مہنگائی کے ڈیرے ہیں، اور شہر بھر میں دودھ بھی 200روپے سے 250روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے ضلعی انتظامیہ اپنے ہی جاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کرنے میں مکمل طو رپر ناکام ہے ضلعی انتظامیہ نے شہر بھرمیں بیف 800روپے،مٹن 1500روپے کلومقرر کررکھی ہے، مگر صورتحا ل اس کے بر عکس ہے، قصاب اور دودھ فروش سرکاری ریٹ پر گوشت اور دودھ فروخت کرنے پر تیار نہیں ہیں,اس وقت بڑا گوشت 1200سے 1400 روپے فی کلو بکرے کا گوشت 1600سے 2200روپے تک فروخت ہورہاہے اور چینی بھی185سے 200روپے فی کلوفروخت ہورہی ہے بیکری اٹیمز سمیت دیگر کھا نے پینے کی اشیا میں آئے روز اضافہ ہورہاہے جبکہ سبزیوں میں گوبھی، مٹر،اروی،کریلا،گھیاکدو،شلجم،گھیاتوڑ ی ،بھنڈی توری، پیاز ، ٹماٹر، لہسن سمیت دیگر کی قیمتیں بھی آسمان سے بات کررہی ہیں، سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہ ہونے سے عوام کو مہنگائی کا دوہرا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔،مصنوعی مہنگائی کے سامنے پنجاب ضلعی انتظامیہ منافع خوروں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے،منافع خوروں ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر عمل نہیں کرتے اس طرح دودھ کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے شہر اور گردونواح میں دودھ فروشوں نے اپنے ہی ریٹ مقرر کررکھے ہیں۔ جبکہ فیصل آباد کی انتظامیہ صرف گلی محلوں میں چھوٹے دکانداروں کو جرمانے کرنے میں مصروف ہے غلہ منڈی،سبزی منڈی اور پولٹر ی مافیا کے اپنے ہی جاری کردہ نرخ نامے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں