نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) مودی سرکار کی جانب سے ایک اور تاریخی مسجد کو شہید کرنیکی تیاری کی جارہی ہے، نئی دہلی کی100سالہ پرانی ریس کورس مسجد کو6روزمیں خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریس کورس مسجد وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب واقع ہے۔مسجد میں تقریباً 800 نمازیوں کی گنجائش ہے۔رپورٹ کے مطابق ریس کورس مسجد1977سیسرکاری گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج اور تاریخی ورثے میں شامل ہے۔ مسجد نئی دہلی میونسپل کونسل کے تاریخی ورثیکی فہرست میں بھی شامل ہے۔مسجد کے امام مولاناہارون کاکہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے لینڈ اینڈ ڈوولپمنٹ آفس نے آئندہ ہفتے مسجد شہید کرنیکا ارادہ ظاہرکیا ہے۔ مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع ہے اور تمام دروازے بندکر دیے گئے ہیں، جس کے باعث نمازیوں کو نماز ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمرفاروق نے ایک بیان میں کہا ہیکہ کیا مسلم عبادت گاہوں کے ساتھ اب یہی معمول بنتا جا رہا ہے؟ اگرقانونی طورپرتسلیم شدہ مسجد کو بھی تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا تو دوسری مساجد کے لیے کیا ضمانت باقی رہ جاتی ہے؟




