فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) مویشی منڈی نیاموآنہ میں ٹھیکیدار کی لوٹ مار’ قربانی کے جانوروں کی مقررکردہ سرکاری فیس سے 7 گنا زائد وصول’ ضلعی انتظامیہ نے چپ سادھ لی۔ تفصیلات کے مطابق سمندری روڈ پر نیاموآنہ میں قائم مویشی منڈی میں ٹھیکیدار ظہیر عباس کی جانب سے لوٹ مار کا بازار گرم ہے، منڈی میں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گائے کی خریداری پر 300 روپے فیس مقرر کی گئی ہے جبکہ نیاموآنہ منڈی میں ٹھیکیدار کے کارندے جانوروں کے خریداروں سے فی جانور 300 کی بجائے 2000 روپے وصول کر رہے ہیں جو کہ سرعام بدمعاشی ہے’ ٹھیکیدار کو بااثر سیاسی شخصیت کی آشیرباد حاصل ہونے کے باعث اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، قربانی کے جانور خریدنے آنے والے افراد پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں ایسے میں اضافی اور غیر قانونی فیس نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف منڈی میں انتظامی بدنظمی اور سہولیات کا فقدان ہے’ نہ تو جانوروں کیلئے مناسب سایہ موجود ہے اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کا انتظام کیا گیا ہے، ٹریفک کنٹرول کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔ سی ٹی او نے مویشی منڈی کیلئے ٹریفک پلان کا اعلان کیا تھا مگر اس پر بھی کوئی عملدرآمد نہیں کیا جا رہا، ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات نہیں ہیں۔ امن وامان برقرار رکھنے کیلئے ضلعی پولیس کی جانب سے بھی کوئی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں۔ منڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کوئی رٹ نہیں۔ ٹھیکیدار اپنی من مانیاں کر رہا ہے، بیوپاری بنیادی سہولیات کی تلاش میں مارے مارے پھرنے پر مجبور ہیں لیکن انتظامیہ اور ٹھیکیدار کی جانب سے صورتحال بہتر بنانے کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب کیٹل مارکیٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی’ ڈویژنل کمشنر محترمہ مسرت جبیں اور ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر سے فوری نوٹس لیکر اوورچارجنگ پر ٹھیکیدار کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔




