کراچی (بیوروچیف) مکہ دفاعی معاہدہ: امریکی سکیورٹی ڈھانچے پر اعتماد میں کمی کا نتیجہ، مصر کی ممکنہ شمولیت زیر غور،شامل ہونے پر یہ اتحاد آبادی، فوج اور نہر سویز کے حوالے سے مزید طاقتور ہوگا، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک نہایت اہم جغرافیائی پیش رفت ہے، روسی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ سعودی مالی و سیاسی اثر، ترکیہ کی عسکری و دفاعی صنعت، اور پاکستان کی بڑی فوجی قوت اور جوہری حیثیت کو ایک فریم ورک میں جوڑتا ہے۔دریں ثناء ۔یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی معاہدے پر اسرائیلی حکومت پریشان ہے۔اسرائیلی وزیر برائے امور تارکین وطن نے کہا کہ مکہ معاہدہ بہت خطرناک اور پریشان کن پیش رفت ہے، یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے انتہائی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا پہلے سے دفاعی معاہدہ ہے، اب اس میں ترکیے بھی شامل ہو گیا ہے جس کے ہمارے براہ راست اختلافات ہیں۔واضح رہے 2 روز قبل سعودی عرب کے شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا جس پر تینوں ممالک کے سربراہان مملکت نے دستخط کیے۔ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔




