مہنگائی 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اسلام آباد (بیوروچیف)پاکستان میں مہنگائی کی شرح مئی 2026 میں بڑھ کر گزشتہ 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس سے جاری امریکہ۔ ایران کشیدگی کے باعث بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ نمایاں ہو گئے ہیں اور حکومت کی جانب سے مالی سال 27ـ2026 کے لیے مقرر کردہ 8.2 فیصد مہنگائی کے ہدف کے حصول پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔گوادر پرو کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹکسٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مئی 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد پرسالانہ مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو اپریل میں 10.9 فیصد اور گزشتہ سال مئی میں 3.5 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیادوں پر قیمتوں میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق یہ شرح جولائی 2024 کے بعد سب سے بلند سطح ہے اور یہ اس وقت سامنے آئی جب حکومت نے حال ہی میں آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد جی ڈی پی نمو اور 8.2 فیصد مہنگائی کے ہدف پر مشتمل ایک پرجوش اقتصادی روڈ میپ پیش کیا تھا۔اقتصادی اہداف پر سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (APCC) کے اجلاس میں غور کیا گیاجس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 26ـ2025 میں پاکستان کی معیشت نے عارضی طور پر 3.7 فیصد شرح نمو حاصل کی، جس میں صنعت اور خدمات کے شعبوں کی کارکردگی نے اہم کردار ادا کیا برآمدات 34 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ اشاریے معاشی بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، ماہرین اقتصادیات نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں آئندہ مالی سال میں بھی مہنگائی کو بلند سطح پر برقرار رکھ سکتی ہیں۔پی بی ایس کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی 11.1 فیصد سے بڑھ کر 11.8 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 10.6 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی،حساس قیمت اشاریہ (SPI)، جو ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے، سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد بڑھ گیا۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ماہر اقتصادیات ملک تنویر احمد نے بتایاکہ پاکستان میں سی پی آئی مہنگائی 11.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو غیر معمولی حد تک بلند ہے۔ عام حالات میں مہنگائی دو سے تین فیصد پوائنٹس تک بڑھتی ہے تاہم موجودہ اضافہ غیر معمولی بیرونی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا سبب امریکہ۔ایران تنازع اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں، جنہوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بحران سے قبل 65 تا 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھا کر 100 ڈالر سے اوپر پہنچا دیاجبکہ ایک موقع پر قیمت تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی،ان کے مطابق پاکستان توانائی کے شعبے میں درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت ہے۔ تیل اور ایل این جی کی بلند قیمتیں براہ راست مہنگائی میں اضافہ کر رہی ہیں اور اقتصادی نمو کو بھی متاثر کریں گی۔رپورٹ کے مطابق ملک تنویر احمد نے بتایا کہ تنازع سے قبل پاکستان کا ہفتہ وار توانائی درآمدی بل تقریباً 300 ملین ڈالر تھا جو بڑھ کر 500 سے 600 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تنازع جاری رہا تو توانائی درآمدات کی مالی معاونت کے لیے مزید ڈالر درکار ہوں گے، جس کے باعث پاکستانی روپے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی اے پی سی سی اجلاس میں خبردار کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے اثرات کے باعث مالی سال 27ـ2026 میں مہنگائی تقریباً 8.2 فیصد کے قریب رہ سکتی ہے۔پشاور کے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (IMSciences) کے پروفیسر ظفر حبیب کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے مہنگائی پر اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں ہیں۔انہوں نے گوادر پرو سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا توانائی کے بحران کے نتائج بھگت رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ توانائی کی قیمتیں صرف تیل اور گیس کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور معیشت کے تقریباً ہر شعبے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ان کے مطابق پاکستان جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک زیادہ خطرات سے دوچار ہیں کیونکہ توانائی کی بلند قیمتیں ان کے بیرونی مالی توازن پر اضافی دباؤ ڈالتی ہیں۔مہنگائی میں حالیہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت برآمدات، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے معاشی بحالی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اے پی سی سی اجلاس کے دوران احسن اقبال نے زور دیا کہ پاکستان کو قرضوں پر انحصار کم کرکے برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ برآمدات اقتصادی خودمختاری کی کنجی ہیں،ان کے مطابق طویل المدتی معاشی استحکام کا انحصار مسابقتی صلاحیت، صنعتی ترقی اور برآمدات پر مبنی غیر ملکی سرمایہ کاری پر ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالی سال 27ـ2026 میں 4 فیصد اقتصادی شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے تحت زراعت میں 3.8 فیصد، صنعت میں 4 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4.2 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال میں ترقیاتی وسائل کا 98 فیصد سے زائد حصہ پانی، توانائی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے جاری منصوبوں پر خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔احسن اقبال نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے طویل المدتی اقتصادی ترقی اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تاہم ماہرین اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو اقتصادی ترقی اور مہنگائی دونوں اہداف کا حصول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔قائداعظم یونیورسٹی کے اسکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمان علی بیٹنی نے بتایاکہ پاکستان توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ترسیلات زر میں ممکنہ رکاوٹوں کے حوالے سے اب بھی انتہائی حساس ہے۔ اگر خلیجی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہی تو مالی سال27ـ 2026 کے بیشتر عرصے میں دو ہندسوں والی مہنگائی برقرار رہ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ عام گھرانے متاثر ہوں گے جنہیں خوراک، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑیگا، ان کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ بھی ہو جائے تو توانائی کی کم قیمتوں کے اثرات صارفین تک پہنچنے اور مہنگائی میں واضح کمی آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ برآمدات میں اضافہ، ترسیلات زر کی مضبوط آمد اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دے سکتی ہے تاہم مہنگائی آئندہ مالی سال میں پالیسی سازوں کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک رہے گی۔ مستقبل کا انحصار بڑی حد تک عالمی توانائی منڈیوں کی صورتحال، شرح مبادلہ کے استحکام اور بڑھتی ہوئی بیرونی غیر یقینی صورتحال کے درمیان حکومت کی مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی صلاحیت پر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں