نامور ادیب اور محقق اقبال فیروز انتقال کرگئے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ہفت روزہ چٹان ‘ روزنامہ کوہستان کے سابق ایڈیٹر، نامور ادیب، محقق اور مئورخ اقبال فیروز آف شیبا ہوٹل و محفل ہوٹل چنیوٹ بازار رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم گزشتہ کچھ عرصہ سے علیل تھے اور چند دنوں سے ہسپتال میں زیر علاج تھے گزشتہ روز ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور پھر سنبھل نہ سکی اور وہ نماز عشا کے قریب اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم قرآن کریم، احادیث، اقبالیات، فلسفہ، فارسی و اردو ادبیات اور دیگر بہت سے علوم کے ماہر تھے۔ وہ قرآن پاک کے حافظ نہ تھے مگر کوئی شخص ان کے سامنے کسی آیت کی تلاوت غیر درست انداز میں نہیں کر سکتا تھا اور وہ احادیث کی املاء کے حوالے سے بھی خاص دسترس رکھتے تھے۔ علم و ادب ان کے گھرانے کی خاص شناخت ہے۔ ان کے والد گرامی شیخ فیروز دین حضرت قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ کے عاشق صادق تھے اور انہوں نے حضرت علامہ محمد اقبال کے ساتھ اپنی عقیدت و محبت کی بنیاد پر ہی اقبال فیروز صاحب کا نام اقبال رکھا تھا۔ اقبال فیروز صاحب کی اولاد میں بھی علم و ادب اور دین سے محبت کے گہرے نقوش موجود ہیں۔ مرحوم کے انتقال سے بلا شبہ فیصل آباد شہر اور اہل فیصل آباد ایک بہت بڑے عالم فاضل اور دیندار انسان سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی اعجاز فیروز بار ایٹ لاء لاہور میں مقیم ہیں اور شعبہ وکالت سے منسلک ہیں جبکہ سب سے چھوٹے بھائی افتخار فیروز چند سال قبل امریکہ میں انتقال کر گئے تھے۔ افتخار فیروز کا نام پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبا کے بانیوں میں سے ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جس انداز میں بنیاد رکھی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مرحوم اقبال فیروز مرحوم احمد فیروز، اسد فیروز اور احسن فیروز کے والد گرامی، ممتاز مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ اور آصف مخدومی کے ماموں تھے۔ اقبال فیروز مرحوم کا جنازہ قبل از نماز ظہر تقریباً ساڑھے 12بجے 113۔اے پیپلز کالونی فیصل رشید روڈ سے اٹھایا گیا اور ان کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ٹیکنیکل سکول والی مسجد ڈی گرائونڈ میں ادا کی گئی اس کے بعد انہیں بڑے قبرستان غلام محمد آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں