ویگن ڈائیٹ سے وٹامن بی 12 کی کمی کا خطرہ

کراچی ( بیو رو چیف )ویگن ڈائیٹ صحت کی بہتری اور وزن میں کمی کے لیے تیزی سے مقبول ہو رہی ہے تاہم ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ویگن ڈائیٹ کو درست طریقے سے ترتیب نہ دیا جائے تو وٹامن بی 12 کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرینِ غذائیت کے مطابق ویگن ڈائیٹ پلان (vegetarian diet) اپنانے کے سبب وٹامن بی 12 کی کمی ہو سکتی ہے، وٹامن بی 12 قدرتی طور پر پودوں(سبزیوں اور پھلوں میں)میں قابل استعمال شکل میں موجود نہیں ہوتا بلکہ یہ زیادہ تر گوشت، مچھلی، انڈوں اور دودھ جیسی غذاں (carnivore diet) میں پایا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق وٹامن بی 12 خون کے سرخ خلیات بنانے، ڈی این اے کی تیاری اور اعصابی نظام کی درست کارکردگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی کمی سے تھکن، کمزوری، خون کی کمی، یادداشت کی خرابی، ہاتھ پاں کا سن ہونا اور اعصابی نقصان جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ وٹامن بی12 کی طویل عرصے تک کمی رہنے کی صورت میں اعصابی نقصان مستقل بھی ہو سکتا ہے۔ یہ عام تاثر غلط ہے کہ سمندری گھاس، اسپرولینا یا خمیر شدہ غذائیں وٹامن بی 12 کا مناسب ذریعہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان غذاں میں موجود بی 12 جیسے مرکبات انسانی جسم کے لیے مثر نہیں ہوتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ویگن افراد (سبزی خور) کے لیے وٹامن بی 12 سپلیمنٹ لینا ضروری ہے۔ عام طور پر روزانہ 50 سے 100 مائیکروگرام یا ہفتے میں ایک بار 2000 مائیکروگرام سپلیمنٹ مثر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فورٹیفائیڈ پلانٹ ملک، نیوٹریشنل ایسٹ اور فورٹیفائیڈ سیریلز بھی مددگار ہو سکتے ہیں تاہم سپلیمنٹ سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصی طور پر وٹامن بی12 کی کمی سے احتیاط ان افراد کو کرنی چاہیے جو نئی ویگن ڈائٹ اپنا رہے ہوں، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، 60 سال سے زائد عمر کے افراد اور وہ لوگ جو میٹفارمن جیسی ادویات استعمال کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ویگن ہونا (غذا کے لیے صرف سبزیوں اور پھلوں پر اکتفا کرنا) صحت مند زندگی کے خلاف نہیں لیکن وٹامن بی 12 کو نظر انداز کرنا سنگین صحت کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ باقاعدہ بلڈ ٹیسٹ اور مناسب سپلیمنٹ سے وٹامن بی12 کی کمی کو آسانی سے دور کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں