لاہور ( بیو رو چیف )ٹیکسوں کی بھرمار کے باعث پولٹری انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہوچکی ، مستقل قریب میں مرغی کے گوشت کے سنگین بحران کا خطرہ ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سینئر رہنما میاں قاسم نے ایک میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بے جا ٹیکسوں نے پولٹری انڈسٹری کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے، چوزے پر دس روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اربوں کی سرمایہ کاری کرنیوالوں پر ظلم ہے جس سے فارمرز کا روزانہ کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو اگر ختم نہ کیا گیا تو سستی پروٹین عوام کی دسترس سے باہر ہو جائیگی، 80 سے 85 روپے کی لاگت والا چوزہ دس روپے میں فروخت ہورہا ہے، 10 روپے ایکسائز ڈیوٹی کہاں سے دی جائے۔ انہوں نے کہا ٹیکس منافع سے ہوتا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ چوزے کی فروخت میں 70، 75روپے نقصان پر بھی 10 روپے ٹیکس دیا جائے، بجلی، ڈیزل، فیڈ اور ادویات کی لاگت زیادہ ہونے سے پولٹری فارمرز پہلے ہی مالی بوجھ اور شدید پریشانی کا شکار ہیں، اگر حکومت نے بروقت اقدامات لیتے ہوئے ریلیف نہ دیا تو پھر پولٹری انڈسٹری تباہ ہوجائیگی ، بیروزگاری کی ایسی لہر آئیگی کہ سنبھالی نہ جائیگی،عوام کو سستی پروٹین فراہم کرنیوالی پولٹری انڈسٹری شدید دبائو کا شکار ہے۔ چوزے پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے فی کس بریڈر مرغی کی لاگت 1500 روپے بڑھ چکی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کا شکار ہوچکی، انکے لئے بنیادی ضرورت کی اشیا کی خریداری مشکل ہو رہی ہے، فی کس آمدن بڑھانے سے ہی غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس مقصد کیلئے اقدامات لے. انہوں نے کہا کہ برائلر اور لیئر فارمرز کی صورتحال بھی انتہائی پریشان کن ہے، انڈوں کی لاگت فی پیٹی 6500 روپے تک ہے مگر 4000 سے 4500 روپے تک مارکیٹ میں پیٹی بک رہی ہے. اسی طرح برائلر مرغی فی کلو 50 سے 70 روپے نقصان کر رہی ہے، فارمرز کروڑوں کی سرمایہ کاری کرکے بھی شدید مالی بحران کا شکار ہوتا جا رہا ہے، قرضوں کا بوجھ فارمرز کب تک برداشت کرینگے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے پولٹری انڈسٹری کو ریلیف دے اور لاکھوں لوگوں کو بیروزگاری سے بچا لے. ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مرغی اور اس کے گوشت پر مجموعی طور پر 65 فیصد ٹیکس عائد ہوچکا۔ اضافی ٹیکسز نے پولٹری انڈسٹری کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے، ملک میں 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، ان سے سستی پروٹین بھی چھینی جا رہی ہے۔




