ٹیکسوں کی بھرمار نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کردیا

مامونکانجن(نامہ نگار) شہریوںنے حکومت کے پے در پے مہنگائی اور ٹیکسوں کے حملوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ آے روز پٹرول ، بجلیLPGاور گھریلو زندگی کی ضروری اشیا حکومت جو عوام کیلئے خون و پسینہ کا آخری قطرہ بہانے کا مسلسل دعوی کرتی ہے۔ اپنے موقف اور اصولوں سے ہر روز انحراف کرتی نظرآتی ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار اورآئی ۔ایم ۔ایف کے معاہدے کا بہت خیال اور قوم کے مفادات کا نہیں ۔ غریب عوام محنت کش، کسان ، سفید پوش طبقہ ہر روز ان کے خلاف فریاد کرتا ہے ۔ مہنگائی کا پنجہ ہررو ز مضبوط ہوتا جا تا ہے ۔ ایک طرف ریلیف کا سنہرا بیان دیا جاتا ہے دوسری طرف مہنگائی اور ٹیکسوں کے تیر برساکر عوام کے معاشی جسموں کو چھلنی کیا جاتا ہے ۔ عوام سمجھتے ہیں کہ حکمران بے حس اور بے بس ہوچکے ہیں۔آخر آئی۔ایم۔ایف ورلڈ بینک کے ساتھ وعدوں کو بھی پورا کرناہے۔ غریب عوام خواہ اپنے تن کے کپڑے بیچے ان کو کوئی غرض نہیں اگر حالات کو تبدیل کرنے کے اقدامات نہ کئے گئے تو عوام اب خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ان کا صدائے احتجاج ریڈ لکیر کوعبور کرسکتا ہے۔ احتساب کے ذریعے ملکی وسائل جو بوئے گئے واپس لائے جائیں۔ غریب عوام کو قرضوں میں نہ جکڑا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں