ملک میں ٹیکس نظام’ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور تجارتی شعبے کو جدید بنانے کیلئے اہم اقدامات کے نتیجے میں مالی سال 2025 میں ٹیکس وصولیوں میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 34ہزار سے زائد ٹیکس دہندگان کو آن لائن بلنگ نظام سے جوڑا گیا جبکہ 43ہزار ڈیجیٹل بلنگ مشینوں سے ٹیکس وصولی کا عمل بہتر ہوا۔ اے آئی سے ٹیکس چوری کی نشاندہی بہتر ہوئی، جبکہ اہم صنعتی شعبوں سے اربوں روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔ ڈیجیٹل پاکستان اقدامات کے تحت ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آن لائن مالیاتی سہولتوں کو فروغ دیا گیا۔ راست نظام کے فروغ سے مزید 5کروڑ افراد اور 11لاکھ کاروبار آن لائن ادائیگیوں سے جڑے اور کل صارفین 13کروڑ ہو گئے، نادرا سمیت سرکاری اداروں میں آن لائن ادائیگیوں کی سہولت سے شہریوں کیلئے فیس اور دیگر ادائیگیاں آسان بنائی گئیں۔ کاروباری آسانی اور تجارت کے فروغ کیلئے پہلی بار نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 سے بڑی ٹیرف اصلاحات کا آغاز کیا گیا۔ ٹیرف میں کمی اور ڈیجیٹل اصلاحات سے کاروباری سرگرمیوں اور برآمدات کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران ان ڈائریکٹ ٹیکسوں پر انحصار مزید بڑھنے کا امکان ہے، نئے مالی سال کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا ہدف 9837 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے جو 30جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال 2025-26 کے تخمینے کے مقابلے میں نو سو ستاون ارب روپے زیادہ بنتا ہے آئندہ مالی سال کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں رواں مالی سال کے تخمینے کے مقابلے میں 957 ارب روپے اضافے کا امکان ہے جس کے بعد نئے مالی سال کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا ہدف 9ہزار 837 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ رواں مالی سال ان ڈائریکٹ ٹیکسز 8ہزار 880 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے یعنی رواں مالی سال ان ڈائریکٹ ٹیکسز ہدف سے 850 ارب روپے کم رہ سکتی ہیں۔ رواں مالی سال کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا ہدف 9ہزار 730 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ یہاں حکومت ٹیکس اصلاحات کی بہتری کے لیے اقدامات کو بروئے کار لا رہی ہے۔ اس بات سے کسی صورت بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ٹیکس کے بہتر نظام سے ملک میں معاشی انقلاب آئے گا کیونکہ ٹیکسوں کی بدولت ہی حکومتوں کے نظام بھی احسن انداز سے چلتے ہیں۔ لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام پر بے جا قسم کے ٹیکسوں کی بھرمار نہ کرے پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے عوام 2وقت کی روٹی کو ترس گئی ہے۔ اوپر سے بے جا قسم کے ٹیکسوں کا لاگو ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے دعوئوں کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ عوام کو زندگی کی مشکلات سے نبردآزما ہونے کا موقع بھی آسانی سے میسر ہو سکے۔




