فضائی آلودگی سے بچائو کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت (اداریہ)

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ماحولیات کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں پنجاب پلاسٹک کے خاتمے کے غیر معمولی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عوام سے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرنے کی اپیل کی ہے۔ گزشتہ سال فوگ میں نمایاں کمی اور ماحول کی بہتری پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیراعلیٰ نے غیر معیاری پلاسٹک بیگز کے استعمال پر قانونی کارروائی کی تسلسل کی ہدایت بھی کی۔ پنجاب میں خطے کے پہلے انوائرمنٹ آبزرویٹری پراجیکٹ کی جلدازجلد تکمیل کے لیے اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ زمین خوبصورت کرہ ارض ہے اس کی حفاظت اور بقاء کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور سموگ کے تدارک کیلئے مؤثر اور پائیدار اقدامات سے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب ماحولیاتی آلودگی سے متعلق پیشگی الرٹ کی صلاحیت حاصل کرنے والا پہلا صوبہ بن چکا ہے۔ پہلے جدید ترین ائیرکوالٹی فورکاسٹ سسٹم سے صوبہ بھر میں فضائی آلودگی انڈیکیٹر کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ پنجاب کی پہلی انوائرمنٹ وال پر 24/7 ماحولیات سے متعلق اداروں کا مانیٹرنگ سسٹم کام کر رہا ہے۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں’ بھٹہ خشت اور فصلوں کی باقیات جلانے سمیت ماحولیاتی قوانین کی دیگر خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ہمارا مذہب اور اخلاقی اقدار بھی ہمیں صفائی اور ماحول کی حفاظت کا درس بھی دیتی ہیں، نئی نسل کی بقاء کیلئے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ہمیں فطرت کے تحفظ’ آلودگی کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے شعور پیدا کرنا ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ملک کو بہتر سے بہتر بنانا ہم سب کا فرض اولین ہے۔ فیصل آباد میں قائم صنعتی ایریا کا جال بچھا ہوا ہے اور فیکٹری مالکان صنعتی زہریلے پانی کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی بجائے زیرزمین ہی بہا دیتے ہیں جس سے زمین ہی نہیں پورا کا پورا علاقہ ہی خراب ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ زیرزمین پانی بھی پینے کے قابل نہیں رہتا۔ وطن عزیز میں ماحولیاتی آلودگی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ جبکہ اس کے تدارک کیلئے حکومتی اقدامات بھی کئے جاتے ہیں لیکن ان اقدامات کا ابھی تک کوئی مؤثر نتیجہ نہیں نکل سکا۔ فیصل آباد ملک کا اہم ترین شہر ہے جسے ”مانچسٹر آف پاکستان” بھی کہا جاتا ہے۔ صنعتی شہر کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ملک کے دوسرے شہروں کی طرح فیصل آباد میں بھی رہائشی علاقوں میں صنعتی یونٹ قائم ہیں جو کہ بڑی ہی دیدہ دلیری کے ساتھ فضاء کی آلودگی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ اسی وجہ سے فیصل آباد میں فضائی آلودگی بھی بہت زیادہ ہے۔ ارباب اختیار واقتدار نے ”مانچسٹر آف پاکستان” کو سرسبز وشاداب بنانے کا وعدہ بھی کیا لیکن ”وعدہ وفا”نہ ہو سکا۔ فیصل آباد کے شہریوں کو بھی اس کو خوبصورت بنانے کے خواب بھی دکھائے گئے لیکن وہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کوڑا کرکٹ اور گندگی کے ڈھیروں کو آگ لگانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔ دھواں چھوڑنے والی آلودگی کا باعث بننے والی اور فٹنس سرٹیفکیٹ سے محروم گاریوں کے خلاف سخت کریک ڈائون کرنے کے بھی ضرورت ہے تاکہ ہمیں آلودگی سے پاک صاف ستھرا ماحول میسر آ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں