پام کے درخت خشک ہونے کے حوالے سےPHAکی حقائق کے برعکس رپورٹ

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) کمشنر ہائوس روڈ پر پام کے درخت خشک ہونے کے حوالے سے ”ڈیلی بزنس رپورٹ” کی نشاندہی پر پنجاب حکومت اور ڈویژنل کمشنر کا نوٹس’ پی ایچ اے نے حقائق کے برعکس رپورٹ پیش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ”ڈیلی بزنس رپورٹ” میں شائع ہونے والی خبر میں کمشنر ہائوس روڈ پر ہلال احمر چوک سے میاں ٹرسٹ ہسپتال تک گرین بیلٹ میں لگائے گئے 100 کے قریب پام کے درخت جو غلط موسم اور غلط طریقہ کار کے باعث گروتھ نہ ہونے سے خشک ہو گئے کی نشاندہی کی گئی جس پر فوری طور پر پنجاب حکومت اور ڈویژنل کمشنر راجہ جہانگیر انور نے نوٹس لیتے ہوئے پی ایچ اے کے افسران سے رپورٹ طلب کر لی جس پر پی ایچ اے کے افسران کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہر کی خوبصورتی کیلئے پام کے 44 درخت لگائے گئے جن پر 5لاکھ روپے لاگت آئی یہ درخت 2 یا 6 ماہ کے دوران لگائے گئے، ٹریفک کی ہوا کے پریشر اور سرد موسم کی وجہ سے کچھ درختوں کے پتے خشک ہو گئے ان کی جڑیں بالکل ٹھیک ہیں۔ ایک ماہ تک ان کی نشوونما شروع ہو جائیگی اور ان کے نئے پتے نکل آئیں گے۔ درحقیقت پی ایچ اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ حقائق کے برعکس ہے پودے مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں ان درختوں کے خشک ہونے سے 5لاکھ نہیں تقریباً 25لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ڈویژنل کمشنر راجہ جہانگیر انور کو اس کی انکوائری کیلئے کمیٹی بنانی چاہیے اور معاملہ کی طے تک پہنچ کر ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں