پاپ میوزک کی ملکہ نازیہ حسن کی سالگرہ آج منائی جائے گی

حجرہ شاہ مقیم (نامہ نگار )نازیہ حسن کی 60ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے ،وہ پاکستان کی مقبول ترین پاپ گلوکارہ تھیں جنہیں پاکستانی پاپ میوزک کا بانی بھی کہا جاتا ہے، ان کی سریلی آواز، منفرد انداز اور جدید موسیقی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر میں ایک نیا میوزیکل ٹرینڈ متعارف کرایا بلکہ نازیہ حسن نے اپنے کیریئر کے دوران کئی لازوال گانے گائے جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں،نازیہ حسن 3اپریل 1965کو کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی کے معروف تعلیمی اداروں سے حاصل کی اور بعد میں لندن کے ریچمنڈ امریکن یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی، نازیہ حسن کو کم عمری سے ہی موسیقی سے لگا تھا اور ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ان کے والدین نے بھی ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، ان کے کیریئر کو سب سے بڑا بریک تھرو 15 سال کی عمر میں ملا، جب انہوں نے بھارتی فلم “قربانی” (1980)کے لیے گانا “آپ جیسا کوئی” گایا۔ یہ گانا اتنا مقبول ہوا کہ نازیہ حسن کو فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا، اور وہ یہ ایوارڈ جیتنے والی سب سے کم عمر گلوکارہ بن گئیں،1980کی دہائی میں، نازیہ حسن اور ان کے بھائی زوہیب حسن نے پاکستان میں پاپ میوزک کا آغاز کیا، ان کے البمز نے دھوم مچا دی اور نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہوئے ان کے مشہور گانوں میں شامل ہیں”ڈسکو دیوانے (1981)،بوم بوم (1982)،ینگ ترنگ (1984)،ہاٹ لائن (1987)،کیمرا کیمرا (1992)،یہ تمام گانے آج بھی کلاسک کا درجہ رکھتے ہیں اور کئی دہائیوں بعد بھی مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں،نازیہ حسن نہ صرف ایک بہترین گلوکارہ تھیں بلکہ ایک سماجی کارکن بھی تھیں، انہوں نے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا اور اقوامِ متحدہ (UN)سے منسلک ہو کر مختلف فلاحی منصوبوں کا حصہ بنیں، وہ ہمیشہ چاہتی تھیں کہ پاکستان میں بچوں اور خواتین کی تعلیم اور صحت کے لیے زیادہ کام کیا جائے ،نازیہ حسن نے 1995میں مرزا اشتیاق بیگ سے شادی کی، لیکن یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور 2000میں دونوں کی علیحدگی ہو گئی، بدقسمتی سے، نازیہ حسن زندگی کے آخری برسوں میں کینسر جیسے مہلک مرض کا شکار ہو گئیں، کئی سال علاج کے بعد، 13اگست 2000کو لندن میں محض 35سال کی عمر میں وہ دنیا سے رخصت ہو گئی مگر نازیہ حسن آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں، ان کے گانے نئی نسل بھی سنتی ہے اور ان کی موسیقی کو کئی گلوکاروں نے ری مکس کر کے خراجِ تحسین پیش کیا ہے، ان کا انداز، ان کی موسیقی اور ان کی سادگی آج بھی یاد کی جاتی ہے، پاکستانی میوزک انڈسٹری میں ان کا کردار بے مثال ہے اور وہ ہمیشہ پاکستانی پاپ موسیقی کی اولین اور سب سے بڑی سپر اسٹار رہیں گی اور ان کا نام ہمیشہ پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے سنہری باب میں لکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں