نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں طبی تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کو فروغ دینے اور امریکا میں تربیت یافتہ نرسوں سمیت دیگر طبی ماہرین کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے کیلئے بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔امریکن پاکستان ایجوکیشن فانڈیشن جو کہ امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کی ذیلی تنظیم ہے اور پاکستان ایجوکیشن فانڈیشن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر آج دستخط ہو رہے ہیں۔اے پی پی اے سی فائونڈیشن کے صدر ڈاکٹر اعجاز احمد اور پاک-ای ای ایف کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سیدہ ہاجرہ سہیل نیویارک میں اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے۔دستاویزات کے مطابق، مجوزہ مفاہمتی یادداشت اے پی پی اے سی فانڈیشن اور پاک-ای ای ایف کے درمیان تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گی، جس کے تحت تعلیم، پیشہ ورانہ تیاری، تربیت، اسناد اور پیشہ ورانہ اہلیت کے تقاضوں کی تکمیل سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے اہل طبی ماہرین کے لیے امریکا میں پیشہ ورانہ مواقع تک رسائی کے مناسب راستے وضع کیے جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ امریکا میں صحت اور تعلیمی اداروں سے روابط اور شراکت داری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔امریکن پاکستان ایجوکیشن فانڈیش امریکا میں قائم ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے، جو امریکا اور پاکستان میں تعلیم، طبی شعبے کی افرادی قوت کی ترقی، پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے اور کمیونٹی سے متعلق مختلف اقدامات پر کام کر رہا ہے۔پاکستانی نرسوں اور دیگر طبی ماہرین کے لیے امریکا میں پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنے کی راہیں ہموار کرنے کا یہ منصوبہ اے پی پی اے سی نے نیویارک ریاستی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فل راموس کے تعاون سے شروع کیا تھا۔اس منصوبے کے تحت اے پی پی اے سی بورڈ کے ارکان نے پاکستان کے 2 دورے کیے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں، جن میں طبی شعبے کی افرادی قوت کی ترقی، نرسنگ اور معاون طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تیاری سے متعلق امور پر پیش رفت کے لیے تفصیلی بات چیت کی گئی تھی۔وفد نے پاکستان اور امریکا کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا تھا۔دوسری جانب، پاک-ای ای ایف نے حکومت کے ایک اہم اقدام کے تحت نیشنل کونسل لائسنسر ایگزامینیشن (NCLEX) نرس پلیسمنٹ پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد پاکستانی رجسٹرڈ نرسوں کو بین الاقوامی لائسنس کے حصول کے لیے تیار کرنا ہے۔پاک-ای ای ایف کے مطابق، اس پروگرام کے تحت ملک گیر رجسٹریشن مہم چلائی گئی، جس میں 2,759 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی، جن میں سے 300 اہل نرسوں کو سخت جانچ اور انتخاب کے بعد تربیت کے لیے منتخب کیا گیا۔اب تک 80 سے زائد نرسیں اینکلیکس لائسنس حاصل کرچکی ہیں اور فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں جبکہ مزید 220 سے زائد نرسیں امتحانی عمل کے مرحلے میں ہیں۔مالی مشکلات کا شکار امیدوار یہ مہنگا امتحان بیرون ملک جائے بغیر با آسانی وطن میں پاس کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔نیویارک میں طے پانے والی نئی مفاہمتی یادداشت اب اے پی پی اے سی فانڈیشن کے لیے اس امر کی بنیاد فراہم کرے گی کہ وہ امریکا میں اسپتالوں، صحت کے نظام، نرسنگ سہولیات، تعلیمی اداروں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور دیگر ممکنہ آجر اداروں یا شراکت داروں کے ساتھ روابط قائم کرے، جو اہل طبی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔اے پی پی اے سی پاکستان اور امریکا کے اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر نرسنگ اور طبی تعلیم، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، پیشہ ورانہ تبادلے اور طبی افرادی قوت کی تیاری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کرے گا۔اس کے علاوہ وظائف، تعلیمی معاونت اور تربیتی شراکت داری کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے۔




