اسلام آباد (بیوروچیف) بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اعلان اور آبی منصوبوں پر پیشرفت کے باوجود پاکستان نے اس معاہدے کے تحفظ کے لیے سفارتی، قانونی اور سیاسی محاذ پر اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔اسلام آباد کا موقف ہے کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ نہ تو یکطرفہ طور پر معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم، جبکہ پاکستان بھارتی اقدامات پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے یہ مقدمہ پیش کر رہا ہے کہ پانی کو سیاسی یا جنگی ہتھیار بنانا بین الاقوامی قانون، علاقائی امن اور کروڑوں انسانوں کی غذائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیاکہ سندھ طاس معاہدے کو کسی بھی قانون کے تحت معطل یا کالعدم نہیں کیا جاسکتا، یہ معاہدہ برقرار ہے اور پاکستان صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ بھارت کی ہر عملی پیشرفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔30جون کو اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی سیمینار میں پاکستان کی سیاسی قیادت، قانونی ماہرین، بین الاقوامی اسکالرز، سفارتی نمائندوں اور سول سوسائٹی نے متفقہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کی مکمل پاسداری پر زور دیا۔ دوسری جانب پاکستان عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ پانی کو ہتھیار بنانا نہ صرف انڈس واٹر ٹریٹی بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور علاقائی امن کے لیے بھی ایک خطرناک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اب اس معاملے کو صرف پاک بھارت تنازع کے بجائے عالمی آبی سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے ایک اہم امتحان کے طور پر پیش کررہا ہے۔




