فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان اور سپین کے درمیان براہِ راست فضائی رابطوں کا آغاز دوطرفہ تجارت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ پاکستانی تاجروں کو ویزوں کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر سے بچانے اور ترجیحی بنیادوں پر ویزا پراسیسنگ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ بات پاکستان میں سپین کے سفیر کارلوس آراگون نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا، ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنا اور سرکلر اکانومی کا فروغ سپین کی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں، جن میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ سپین اقوام متحدہ کے تعاون سے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے، جبکہ پنجاب میں یونیسیف کے تعاون سے ایک منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت نوجوان لڑکیوں کو فنی تربیت اور مختلف مہارتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ رواں سال کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔سرکلر اکانومی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سپین نے چار سے پانچ سال قبل قومی سطح پر اس سلسلے میں حکمت عملی متعارف کرائی تھی۔ اگرچہ پاکستان کے ساتھ اس شعبے میں ابھی کوئی باضابطہ معاہدہ موجود نہیں، تاہم بعض ہسپانوی کمپنیاں پاکستان کو ٹیکسٹائل ویسٹ ری سائیکلنگ کی مشینری برآمد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔




