اسلام آباد (بیوروچیف) رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر مالی سال 25 کے دوران پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 4 ارب 42 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال 4 ارب 8 کروڑ ڈالر تھیں۔برآمدات میں اضافے کی وجہ مغربی، مشرقی اور شمالی یورپ میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں معمولی اضافہ ہے۔مالی سال 24 میں جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود، جس کے تحت زیادہ تر یورپی منڈیوں میں ڈیوٹی فری داخلہ ممکن ہے، یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات 3.12 فیصد کم ہو کر 8 ارب 24 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔اکتوبر 2023 میں یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے متفقہ طور پر جی ایس پی پلس کو مزید چار سال یعنی 2027 تک کے لیے توسیع دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔مغربی یورپی ممالک جن میں جرمنی، نیدرلینڈز، فرانس، اٹلی اور بیلجیئم شامل ہیں، یورپی یونین میں پاکستانی برآمدات کے لیے بڑی منڈیاں ہیں۔مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں اس خطے میں برآمدات 12.16 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 18 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 24 کی پہلی ششماہی میں ایک ارب 94کروڑ ڈالر تھیں۔مشرقی اور شمالی یورپ کو برآمدات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، مالی سال 25 کی پہلی ششماہی میں شمالی یورپ کو بر آمدات 14.29 فیصد اضافے کے ساتھ 35 کروڑ 34 لاکھ ڈالرز رہیں جو گزشتہ برس اسی مدت میں 30 کروڑ 92 لاکھ تھیں۔مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں جنوبی یورپ کو برآمدات 0.06 فیصد کے معمولی اضافے کے ساتھ ایک ارب 52 کروڑ 5 لاکھ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 52 کروڑ 4 لاکھ ڈالر تھیں۔اس خطے میں مالی سال 25 کی ششماہی میں اسپین کو برآمدات 3.07 فیصد کم ہو کر 72 کروڑ 49 لاکھ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال 74 کروڑ 79 لاکھ ڈالر تھیں۔رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں اٹلی کو برآمدات 0.18 فیصد اضافے کے ساتھ56 کروڑ 93 لاکھ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 56 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تھیں۔




