پاکستان اور ایران کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کی تجویز’ تجویز وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے ایران کی وزیر اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق سے ملاقات میں دی’ ایرانی وزیر فرزانہ صادق کا تجویز کا خیرمقدم’ نئے تجارتی راستوں کی تلاش کے مشترکہ عزم پر زور’ پاکستان اور ایران نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سڑک’ ریلوے اور بحری رابطوں کو مضبوط بنا کر بلیواکانومی میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے، وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور ایران کی وزیر روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران فریقین نے تجارت’ سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کے روابط کو فروغ دینے کیلئے علاقائی رابطوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا دونوں راہنمائوں نے سمندری تجارت کو آسان بنانے’ بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے اور دونوں ممالک کو سمندری’ زمینی اور ریل نیٹ ورک کے ذریعے جوڑنے والے لاجسٹک راستوں کے بہتر بنانے کیلئے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، محمد جنید انوار نے پاکستان اور ایران کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ زائرین اور تاجروں دونوں کیلئے ایک سستا اور مؤثر ٹرانسپورٹ متبادل فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسی سروس چلانے میں دلچسپی رکھنے والے کسی بھی ایرانی کاروباری ادارے یا کمپنی کا خیرمقدم کرے گا ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے پاکستان کی تجاویز کاخیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کی بندرگاہیں بڑے اقتصادی اثاثوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو علاقائی تجارت کیلئے گیٹ ویز کا کام کر سکتی ہیں، انہوں نے بندرگاہ سے بندرگاہ تعاون کو بڑھانے اور بحیرہ عرب خلیج فارس میں نئے تجارتی راستوں کی تلاش کے مشترکہ عزم پر زور دیا فرزانہ صادق نے کہا کہ دونوں ممالک کی بندرگاہیں ہماری معیشتوں کی مالیاتی طاقت ہیں بحری اور ٹرانسپورٹ روابط کو بہتر بنا کر ہم علاقائی تجارت اور اقتصادی خوشحالی کے لیے نئے افق کھول سکتے ہیں،، پاکستان اور ایران کا سمندری تجارت کو آسان بنانے’ بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے اور دونوں ممالک کوسمندری’ زمینی اور ریل نیٹ ورک کے ذریعے جوڑنے والے لاجسٹک راستوں کو بہتر بنانے پر زور خوش آئند ہے دونوں ممالک کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کی تجویز بحری راستے سے تجارت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری کی اس حوالے سے ایرانی وزیر اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق سے تبادلہ خیال سے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ تجویز قابل عمل اور دونوں ملکوں کی قیادت اس حوالے سے رضامندی کا اظہار کرے گی اس تجویز پر عمل سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت ماضی کے مقابلے میں دوگنا ہو سکتی ہے جبکہ پاکستان سے ایران میں واقع زیارتوں کیلئے جانے والے زائرین کو سستی سواری میسر ہو گی جس کی سکیورٹی بھی یقینی بنائی جائے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران پاکستان کی طرف سے فیری سروس کی تجویز کو باضابطہ طور پر قابل عمل بنانے کے اقدامات کرے تاکہ اس تجویز سے دونوں ممالک کے کاروباری ادارے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔




