تمہید
اعلی تعلیم کا حصول کسی بھی معاشرے میں نوجوانوں کی فکری، سماجی اور پیشہ ورانہ ترقی کا بنیادی ضامن ہوتا ہے۔ پبلک سیکٹر کی جامعات روایتی طور پر کم آمدنی اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ہونہار طلبہ کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، معاصر تعلیمی منظر نامے میں یہ جامعات محض علم کا مرکز نہیں رہیں بلکہ شدید نفسیاتی تنا کا گڑھ بنتی جا رہی ہیں۔ پبلک یونیورسٹیوں کے طلبہ اس وقت ایک خاموش بحران یعنی”کرونک اسٹریس”کا شکار ہیں۔ یہ ذہنی دبائو نہ صرف ان کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ان کی مجموعی ذہنی و جسمانی صحت اور مستقبل کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اس مقالے کا مقصد ان مائیکرو اور میکرو عوامل کا اکیڈمک تجزیہ کرنا ہے جو طلبہ میں اس تشویشناک رجحان کا سبب بن رہے ہیں۔
1پس منظر اور لٹریچر کا جائزہ
ایم ایس سی سطح کی حالیہ مقامی اور بین الاقوامی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پبلک یونیورسٹیوں کے طلبہ میں اینگزائٹی اور ڈپریشن کی شرح پرائیویٹ سیکٹر کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پبلک سیکٹر کے اداروں پر گورننس، فنڈز کی کمی، اور طلبہ کی کثرت کا شدید دبائو ہوتا ہے۔ ریسرچ اسکالرز کے مطابق، پبلک یونیورسٹی کا ماحول ساختی طور پرطالب علم دوست ہونے کے بجائے اکثر اوقات بیوروکریٹک اور سخت ہوتا ہے، جو طالب علم کی نفسیاتی لچک کو کمزور کر دیتا ہے۔
2تعلیمی دبائو کے محرکات
پبلک جامعات کا تعلیمی ڈھانچہ اکثر طلبہ کی ذہنی استعداد سے زیادہ ان کے اعصاب کا امتحان لیتا ہے:
سیمسٹر سسٹم کی تیز رفتاری: سالانہ نظام کے برعکس، سیمسٹر سسٹم میں طلبہ کو سانس لینے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ 16سے 18ہفتوں کے دوران مڈ ٹرم، فائنل ٹرم، مسلسل اسائنمنٹس، کوئز، اور کلاس پریزنٹیشنز کا ایک نہ ختم ہونیوالا سلسلہ چلتا ہے، جس سے طلبہ ”برن آٹ”کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جی پی اے کا نفسیاتی بوجھ: چونکہ پبلک یونیورسٹیو ں کے طلبہ کو معلوم ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں اور میرٹ کی پوزیشنز گنتی کی ہیں، اس لیے ”سی جی پی اے”کو برقرار رکھنے کا جنون ان پر چوبیس گھنٹے سوار رہتا ہے۔
وسائل اور فیکلٹی کا تناسب : پبلک سیکٹر میں کلاسز کثیر تعداد پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایک استاد کے لیے ناممکن ہوتا ہے کہ وہ سو یا اس سے زائد طلبہ کی کلاس میں ہر طالب علم کی انفرادی رہنمائی کر سکے۔ یہ دوری طلبہ میں بیگانگی اور تعلیمی عدم تحفظ پیدا کرتی ہے۔
3معاشی عدم استحکام اور سماجی طبقاتی کشمکش
پبلک یونیورسٹیوں کے طلبہ کا سماجی اور معاشی پس منظر نجی یونیورسٹیوں کے اشرافیہ طبقے سے یکسر مختلف ہوتا ہے، جو ان کے اسٹریس میں ضرب کا کام کرتا ہے:
مہنگائی اور تعلیمی اخراجات کا بوجھ: حالیہ سالوں میں پبلک سیکٹر کی فیسوں، ہاسٹل کے اخراجات، اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ غریب اور مڈل کلاس والدین کے لیے یہ اخراجات برداشت کرنا محال ہوتا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست ذہنی اثر طالب علم پر پڑتا ہے۔
ملازمت اور تعلیم کا توازن : اپنی تعلیم کا خرچ اٹھانے یا خاندان کی کفالت کے لیے ایک بڑی تعداد پارٹ ٹائم جابز یا فری لانسنگ کرنے پر مجبور ہے۔ تعلیمی تقاضوں اور ملازمت کے اوقات میں توازن برقرار نہ رکھ پانے کی وجہ سے یہ طلبہ دائمی تھکن اور ذہنی تنائو کا شکار رہتے ہیں۔
4خاندانی توقعات اور مستقبلیاتی اینگزائٹی
پاکستانی اکیڈمک کلچر میں فرد کی تعلیم محض اس کا ذاتی معاملہ نہیں ہوتی بلکہ پورے خاندان کا سرمایہ کاری پروجیکٹ ہوتی ہے:
خاندان کی امیدوں کا بوجھ: اکثر اوقات ایک پورے خاندان یا دیہات کی امیدیں پبلک یونیورسٹی میں پڑھنے والے واحد بچے سے وابستہ ہوتی ہیں۔ یہ توقع کہ”ڈگری کے فورا بعد یہ نوجوان پورے خاندان کے معاشی حالات بدل دیگا” طالب علم کے اعصاب پر ایک ایسا ہیمر بن کر لگتی ہے جو اسے نارمل زندگی نہیں جینے دیتا۔
مارکیٹ کی بے یقینی : ڈگری کے آخری سالوں میں پہنچتے ہی طلبہ کو مارکیٹ میں ملازمتوں کی کمی اور معاشی بحران کا ادراک ہوتا ہے۔ یہ ”مستقبلیاتی اینگزائٹی”ان کی موجودہ تعلیمی صلاحیت کو بھی مفلوج کر دیتی ہے۔
5نفسیاتی و جسمانی مضمرات
اگر اس اسٹریس کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو یہ کلینیکل مسائل کی شکل اختیار کر لیتا ہے:
نفسیاتی عوارض: طلبہ میں پینک اٹیکس ، دائمی مایوسی ، اور سماجی تنہائی کے کیسز روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
جسمانی صحت کی تنزلی: مسلسل ذہنی دبائو کے نتیجے میں نیند کا غائب ہو جانا ، معدے کے امراض، دردِ شقیقہ ، اور قوتِ مدافعت کی کمی جیسے عوارض عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔
6تدارک اور تلافی کے لیے تزویراتی اقدامات
پبلک یونیورسٹیوں میں اس ذہنی بحران کو حل کرنے کے لیے مائیکرو اور میکرو دونوں سطحوں پر فوری اصلاحات کی ضرورت ہے:
1۔ ادارتی سطح پر کونسلنگ کا نیٹ ورک : ہر پبلک یونیورسٹی میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے ایک مکمل”اسٹوڈنٹ ویل بینگ اینڈ کونسلنگ سینٹر”ہونا چاہیے، جہاں پروفیشنل سائیکالوجسٹس موجود ہوں اور طلبہ کا ڈیٹا صیغہ راز میں رکھا جائے۔
2۔ اساتذہ کے رویوں کی اصلاح : اساتذہ کو صرف سلیبس ختم کروانے کی تربیت نہ دی جائے، بلکہ انہیں”ہمدردانہ تدریس”سکھائی جائے تاکہ وہ طلبہ کی ذہنی حالت کو سمجھ سکیں۔
3۔ نصاب کی لچک پذیری : اکیڈمک کریڈٹ آورز اور اسائنمنٹس کے بوجھ کو اس طرح ری ڈیزائن کیا جائے کہ طالبعلم کو غیر نصابی سرگرمیو ں اور ذہنی سکون کے لیے بھی وقت مل سکے۔
حاصلِ کلام :پبلک یونیورسٹیوں کے طلبہ میں بڑھتا ہوا ذہنی دبائو محض ایک انفرادی یا نفسیاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے تعلیمی، معاشی اور سماجی نظام کی ساختی خرابیوں کا عکاس ہے۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کی ذہنی صحت کو ترجیح نہ دی، تو ہم ایک ایسی ڈگری یافتہ لاٹ تیار کر بیٹھیں گے جو فکری طور پر تو شاید باصلاحیت ہو، لیکن نفسیاتی طور پر مفلوج ہوگی۔ پبلک سیکٹر کی جامعات کو ایک دبائو والے ماحول سے بدل کر ایک سازگار اور فکری افزائش گاہ بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔




